پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، ہنڈریڈ انڈیکس میں نمایاں اضافہ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر بڑی تیزی، سرمایہ کاروں میں اعتماد بحال

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے کاروباری دن کا آغاز غیر معمولی تیزی کے ساتھ ہوا، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ظاہر کیا۔ کاروبار کے ابتدائی لمحات میں ہی مارکیٹ میں زبردست خریداری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے طور پر جانے جانے والا کے ایس ای-100 انڈیکس 761 پوائنٹس کے شاندار اضافے کے ساتھ اوپر چلا گیا۔ اس تیزی نے نہ صرف مقامی سرمایہ کاروں بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی مضبوط کیا، جو حالیہ دنوں میں معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث مارکیٹ کی جانب دوبارہ متوجہ ہو رہے ہیں۔

کاروبار کے آغاز پر مارکیٹ کا مجموعی ماحول مثبت رہا اور زیادہ تر شعبوں میں سبز رنگ غالب نظر آیا۔ بینکاری، توانائی، سیمنٹ، آٹو موبائل، تیل و گیس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھنے میں آئی، جس نے انڈیکس کو اوپر لے جانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق حالیہ معاشی استحکام، روپے کی قدر میں بہتری، افراط زر میں کمی اور شرح سود سے متعلق مثبت توقعات نے سرمایہ کاروں کو دوبارہ مارکیٹ میں فعال کر دیا ہے۔

ابتدائی سیشن کے دوران بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں خاصی دلچسپی دیکھی گئی۔ خاص طور پر بینکنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کا رجحان نمایاں رہا، جہاں بڑے کمرشل بینکوں کے حصص میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح تیل و گیس کی تلاش و پیداوار سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز میں بھی بہتری دیکھی گئی، جس کی ایک بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام اور مقامی سطح پر توانائی پالیسی سے متعلق مثبت خبریں ہیں۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ حالیہ تیزی کے پیچھے کئی بنیادی عوامل کارفرما ہیں۔ ایک جانب حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات کے تسلسل اور آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق مثبت پیش رفت نے مارکیٹ کے جذبات کو سہارا دیا، تو دوسری جانب زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی کھاتوں کے دباؤ میں کمی نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ ان عوامل نے مجموعی طور پر ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں سرمایہ کاری کو نسبتاً محفوظ اور منافع بخش سمجھا جا رہا ہے۔

کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ حالیہ تیزی صرف قلیل مدتی ردعمل نہیں بلکہ یہ مارکیٹ میں درمیانی مدت کے مثبت رجحان کی عکاس بھی ہو سکتی ہے۔ اگر موجودہ معاشی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا اور سیاسی صورتحال میں استحکام آیا تو اسٹاک مارکیٹ مزید بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ سرمایہ کار خاص طور پر بجٹ سے قبل آنے والی پالیسی اعلانات اور مالیاتی اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جو مستقبل کے رجحان کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ٹریڈنگ والیوم میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار محض تماشائی نہیں بلکہ عملی طور پر مارکیٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں کی واپسی بھی اس تیزی کو مضبوط بنا رہی ہے، جو حالیہ مہینوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تکنیکی اعتبار سے بھی مارکیٹ ایک مضبوط پوزیشن میں داخل ہو چکی ہے۔ کے ایس ای-100 انڈیکس نے اہم نفسیاتی سطحیں عبور کر لی ہیں، جس سے مارکیٹ میں مزید تیزی کی گنجائش پیدا ہو گئی ہے۔ تاہم ماہرین نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا ہے اور کہا ہے کہ منافع حاصل کرنے کے بعد مرحلہ وار سرمایہ کاری اور رسک مینجمنٹ کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

دوسری جانب کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ مستقبل میں مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ صرف افواہوں یا وقتی جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے بنیادی تجزیے اور مستند معلومات کو مدنظر رکھیں۔

مجموعی طور پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر ریکارڈ کی گئی یہ تیزی ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ 761 پوائنٹس کا اضافہ نہ صرف مارکیٹ کی قوت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اگر معاشی سمت درست ہو تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ممکن ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا یہ تیزی برقرار رہتی ہے یا مارکیٹ کسی اصلاحی مرحلے میں داخل ہوتی ہے، تاہم فی الحال سرمایہ کاروں کے چہروں پر اعتماد اور امید کی جھلک واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]