پاکستان ازبکستان بزنس فورم میں بڑا اعلان، پاکستانی تاجروں کو 10 سال ٹیکس استثنیٰ

پاکستان ازبکستان بزنس فورم اسلام آباد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان ازبکستان بزنس فورم: شوکت مرزائیوف کا پاکستانی سرمایہ کاروں کو بڑی سہولت کا اعلان

پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر آئے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان کے تاجروں کے لیے ایک تاریخی اور نہایت اہم اعلان کرتے ہوئے ازبکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی تاجروں کو 10 سال کے لیے ٹیکس استثنیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

پاکستان اور ازبکستان کے مابین تجارتی حجم میں اضافے اور دوطرفہ کاروباری تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان۔ازبکستان بزنس فورم اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے خصوصی شرکت کی۔ فورم میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ازبکستان کے صدر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں، جو اب اقتصادی اور تجارتی شراکت داری کی نئی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر عملدرآمد نہایت اہم پیش رفت ہے، جو باہمی اعتماد اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ بزنس فورم کے انعقاد کے بعد پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا، اور صرف گزشتہ ایک سال کے دوران 450 ملین ڈالر کی باہمی تجارتی سرگرمیاں ممکن ہوئیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں سے باہمی تجارت کا حجم مستقبل قریب میں 2 ارب ڈالر تک لے جایا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ بزنس فورم سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور نجی شعبے کے روابط کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ پاکستان اور ازبکستان نے سائنس، ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بتدریج مستحکم ہو رہی ہے، مہنگائی کی شرح کو کم کر کے سنگل ڈیجٹ میں لایا گیا ہے، جبکہ پالیسی ریٹ میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2023 میں پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا تھا، تاہم حکومتی اقدامات اور اصلاحات کے نتیجے میں ان مشکلات پر قابو پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ازبک صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ازبکستان کی مجموعی قومی پیداوار گزشتہ دس برسوں میں دوگنا ہوئی، جبکہ 85 لاکھ افراد کو غربت سے نکالا گیا اور بیروزگاری میں نمایاں کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ازبک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ، پرکشش اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرے گا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں ٹیکسٹائل پلانٹس لگانے کے خواہاں ہیں، جس سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل، صحت، ٹرانسپورٹ اور سیاحت کے شعبوں میں بھی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا ہے، جبکہ ازبکستان میں چاول اور آلو کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے ازبک تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ بیوروکریسی کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بنے گی اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات اب کثیرالجہتی نوعیت اختیار کر چکے ہیں، اور بزنس فورم کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

ازبک صدر نے کہا کہ ازبک حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سرمایہ کار اور تاجر ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر رہے ہیں، اور یہ دورہ اور بزنس فورم تجارتی تعاون کو نئی وسعت دے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ازبکستان میں پاکستانی تاجروں کو 10 سال کے لیے ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دیا جائے گا، جو سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک غیر معمولی اقدام ہے۔

صدر شوکت مرزائیوف نے کہا کہ پاکستان کو آلاتِ جراحی اور ادویات کی تیاری میں تعاون فراہم کیا جائے گا، جبکہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو خصوصی سہولیات دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول دستیاب ہے، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

 

انہوں نے چین، کرغزستان اور ازبکستان کے درمیان این ایل سی کے ذریعے ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کو قابلِ ستائش قرار دیا اور کہا کہ صحت کے شعبے میں بھرپور تعاون کے لیے ازبکستان تیار ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 2026 کو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی شراکت داری کے فروغ کا سال قرار دیا جائے گا۔

بزنس فورم کے دوران تاشقند لیدر زون کے قیام، معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون، ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات کے فروغ سے متعلق دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ اور طبی شعبے میں باہمی تعاون کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

مجموعی طور پر پاکستان اور ازبکستان بزنس فورم کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو نئی جہت دینے والا ایک اہم اور کامیاب قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کے نئے دروازے کھولنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]