پاکستان نے 2026 میں اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کونسل کی رکنیت سنبھالی – سال بھر سفارتی سرگرمیوں اور عالمی رابطوں کا بڑا ایجنڈا تیار
پاکستان کے لیے 2026 سفارتی، سیاسی اور بین الاقوامی تعاون کے اعتبار سے ایک نہایت اہم سال ثابت ہو رہا ہے، جس میں عالمی سطح پر پاکستان کے کردار، وقار اور روابط میں نمایاں وسعت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UN Human Rights Council) کی رکنیت سنبھال لی ہے، جو عالمی انسانی حقوق کے فورم پر پاکستان کے مؤقف اور سفارتی اثرورسوخ کو مزید مضبوط کرے گی۔ اس رکنیت کے ذریعے پاکستان نہ صرف ترقی پذیر ممالک کے مسائل اجاگر کر سکے گا بلکہ انسانی حقوق کے عالمی مباحث میں بھی فعال کردار ادا کرے گا۔
اسی تناظر میں پاکستان اور امریکا کے درمیان فضائی روابط کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یو ایس فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جنوری 2026 میں پاکستان کا دورہ کرے گا۔ یہ وفد پاکستانی ایئرپورٹس کا تفصیلی آڈٹ کرے گا، جس کا بنیادی مقصد ایوی ایشن سیفٹی، سیکیورٹی اور بین الاقوامی معیار کا جائزہ لینا ہے۔ حکام کے مطابق اس آڈٹ کی کامیابی کی صورت میں پاکستان اور امریکا کے درمیان براہ راست پروازیں بحال ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی، جو نہ صرف مسافروں بلکہ تجارتی اور سفارتی روابط کے لیے بھی انتہائی اہم پیش رفت ہوگی۔
علاقائی اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لیے بھی پاکستان سرگرم نظر آ رہا ہے۔ رواں برس تاجکستان کے صدر پاکستان کا دورہ کریں گے، جن کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی آئے گا۔ اس دورے میں دوطرفہ تجارت، توانائی، علاقائی رابطہ کاری اور سیکیورٹی تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔ اسی طرح ازبکستان کے صدر کے دورہ پاکستان کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا عکاس ہے۔
ڈیجیٹل شعبے میں پاکستان کے لیے ایک اور اہم سنگ میل یہ ہے کہ 2026 میں پاکستان ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (DCO) کی صدارت سنبھالے گا۔ اس فورم کے ذریعے پاکستان ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی تعاون، سائبر سیکیورٹی اور نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل مواقع کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کر سکے گا، جو ملک کی ڈیجیٹل پالیسی کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطح روابط جاری ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار 3 جنوری سے چین کا اعلیٰ سطح دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران 4 جنوری 2026 سے بیجنگ میں پاک۔چین اعلیٰ سطح تزویراتی مذاکرات کا انعقاد ہوگا، جن میں سی پیک، علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف 17 جنوری کو نجی دورے پر برطانیہ روانہ ہوں گے، جبکہ سفارتی ذرائع کے مطابق 19 جنوری کو وزیراعظم لندن سے سرکاری دورے پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس پہنچیں گے۔ ڈیووس میں وہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں عالمی رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرنا اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت معاشی تشخص پیش کرنا ہے۔
جنوبی ایشیا میں تعلقات کی بہتری کے تناظر میں اپریل میں بنگلہ دیش کے سیکرٹری خارجہ کے دورہ پاکستان کی تیاریاں جاری ہیں۔ اسی مہینے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ساتویں سیکرٹری خارجہ سطح کے مذاکرات منعقد کیے جائیں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور باہمی اعتماد سازی کے اقدامات زیر غور آئیں گے۔
شمالی افریقہ کے ساتھ سفارتی روابط کے تحت رواں برس تیونس کا ایک اعلیٰ سطح وفد پاکستان آئے گا، جو دسویں مشترکہ کمیشن اجلاس میں شرکت کرے گا۔ اس اجلاس میں تجارت، تعلیم، ثقافت اور اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی جائے گی۔
اسپورٹس ڈپلومیسی کے میدان میں بھی پاکستان متحرک ہے۔ رواں برس آسٹریلیا کی وہائٹ بال کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی توقع ہے، جو بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی اور پاکستان کے پرامن تشخص کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
اس کے علاوہ پاکستان اور چین کی دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر رواں برس پاکستان میں متعدد تقریبات، سیمینارز اور ثقافتی پروگرامز منعقد کیے جائیں گے، جو دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو مزید اجاگر کریں گے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 2026 پاکستان کے لیے سفارتی محاذ پر غیر معمولی سرگرمیوں، عالمی اداروں میں مؤثر کردار، علاقائی روابط کے فروغ اور اقتصادی و تزویراتی تعاون کے نئے مواقع لے کر آ رہا ہے۔ یہ تمام پیش رفتیں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان عالمی برادری میں ایک متحرک اور ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا مقام مزید مستحکم کرنے کی جانب گامزن ہے۔

