پالتو کتے پر ٹیٹو بنوانے پر عوامی غم و غصہ، چینی شہری کو ایکسپو سے نکال دیا گیا
چین کے شہر شنگھائی میں حال ہی میں ہونے والی ایشیا پیٹ ایکسپو ایک غیرمعمولی تنازعے کا شکار ہوگئی جب ایک چینی شہری اپنے پالتو کتے پر ٹیٹو بنوائے سامنے آیا۔ یہ کتا میکسیکن نسل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے پورے جسم اور پشت پر ڈریگن اور ٹائیگر کے بڑے بڑے ٹیٹو بنے ہوئے تھے۔
یہ منظر جیسے ہی عوام کے سامنے آیا، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور لاکھوں لوگوں نے اسے پالتو جانور پر ظلم اور غیر انسانی سلوک قرار دیا۔
عوامی ردعمل اور تنقید
تصاویر اور ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا:
"یہ دیکھ کر دل ٹوٹ گیا، کتا خوفزدہ اور بےبس لگ رہا تھا۔”
ایک اور شخص نے تبصرہ کیا:
"یہ جانور پر ظلم ہے، انہیں ایک بےجان چیز سمجھ کر استعمال کیا جارہا ہے۔”
سوشل میڈیا پر یہ موضوع ٹاپ ٹرینڈ بن گیا اور لاکھوں افراد نے اس رویے کی مذمت کی۔
شہری کا مؤقف
اس متنازعہ اقدام پر شہری نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ:
"میں نے کوئی جلانے والی مشین استعمال نہیں کی۔ یہ عمل بغیر کسی درد یا بیہوشی کے مکمل کیا گیا ہے۔ کتوں کو درد کا احساس انسانوں کی طرح نہیں ہوتا، خاص طور پر ان کی جلد پر بال نہ ہوں تو یہ عمل زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔”
تاہم عوام نے اس وضاحت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ جواز ظلم کو جائز قرار نہیں دیتا۔
ایکسپو انتظامیہ کا ردعمل
عوامی غم و غصے کے بعد ایشیا پیٹ ایکسپو کی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شہری کو دوبارہ داخلے سے روک دیا۔ منتظمین نے واضح کیا کہ اس قسم کے اقدامات پالتو جانوروں کی فلاح و بہبود کے خلاف ہیں اور آئندہ ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
آرٹسٹ کی معافی
ٹیٹو بنانے والے آرٹسٹ نے بعد میں تسلیم کیا کہ اس سے بڑی غلطی ہوئی ہے۔ اس نے کہا کہ عوامی ردعمل کے بعد اسے احساس ہوا کہ یہ عمل واقعی جانور کے ساتھ زیادتی کے مترادف تھا۔ اس نے عوام سے کھلے عام معافی مانگ لی اور عہد کیا کہ آئندہ جانوروں پر اس طرح کے تجربات نہیں کیے جائیں گے۔
ماہرین کی رائے
جانوروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ:
- پالتو جانوروں پر ٹیٹو بنوانا ان کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔
- یہ عمل جانوروں کو خوف، دباؤ اور تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔
- اس قسم کے اقدامات جانوروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔
ماہرین نے زور دیا کہ پالتو جانور انسان کی ملکیت ضرور ہیں، لیکن ان کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی۔
شنگھائی میں پالتو کتے پر ٹیٹو کا یہ واقعہ ایک بڑی بحث کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ عوام کی نظر میں یہ عمل ظلم کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ ذمہ دار افراد کو مستقبل میں اس قسم کے اقدامات سے باز رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں پالتو جانوروں کے حقوق کے حوالے سے شعور تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لوگ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے غیر انسانی سلوک کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
