پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس: عوام پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا
اسلام آباد – حکومت پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کیے جانے والے ٹیکسوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جنہوں نے عوام اور ماہرین معیشت دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی حالیہ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں شامل ٹیکسز کا تناسب 35 سے 36 فیصد تک جا پہنچا ہے، جو ملکی معیشت اور عام صارف پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
فی لیٹر پیٹرول پر 94.89 روپے ٹیکس
سرکاری دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 94 روپے 89 پیسے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ اس رقم میں مختلف اقسام کے ٹیکس شامل ہیں جن میں:
- کسٹم ڈیوٹی: 14 روپے 37 پیسے
- پیٹرولیم لیوی: 78 روپے 2 پیسے
- کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 2 روپے 50 پیسے
یہ ٹیکسز مل کر پیٹرول کی فی لیٹر قیمت کا تقریباً 36 فیصد بنتے ہیں۔ اس بوجھ کا براہِ راست اثر عوام پر پڑتا ہے کیونکہ پیٹرول روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی اہم ترین شے ہے، جو ٹرانسپورٹ، صنعت، اور زراعت جیسے شعبوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
فی لیٹر ڈیزل پر 95.35 روپے ٹیکس
اسی طرح، فی لیٹر ڈیزل پر 95 روپے 35 پیسے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جس میں:
- کسٹم ڈیوٹی: 15 روپے 84 پیسے
- کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 2 روپے 50 پیسے
- پیٹرولیم لیوی: 77 روپے 1 پیسہ
یہ رقم بھی ڈیزل کی مجموعی قیمت کا 35 فیصد بنتی ہے۔ چونکہ ڈیزل ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور بھاری صنعت میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس پر ٹیکس کا بوجھ اشیائے خوردونوش اور بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
ماہرین کا ردِعمل
ماہرین اقتصادیات اور ٹیکس پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرنا ایک آسان مگر خطرناک راستہ ہے۔ اس سے وقتی طور پر حکومتی ریونیو میں اضافہ تو ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کا بوجھ بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافے، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ اور پیداواری لاگت میں اضافہ، یہ سب عوامل معیشت کو مزید دباؤ میں ڈال دیتے ہیں۔
عوامی ردِعمل
عوام کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے جینا دوبھر کر رکھا ہے، اور اب ہر مہینے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔
ایک مقامی ٹیکسی ڈرائیور کا کہنا تھا:
“ہمیں روزانہ کا کرایہ اسی پیٹرول سے کمانا ہوتا ہے، جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو یا تو کمائی کم ہو جاتی ہے یا سواریاں ناراض ہو کر کرایہ نہیں دیتیں۔”
حکومت کی پوزیشن
حکومت کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال ترقیاتی منصوبوں، سبسڈی اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ تاہم، تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ شفافیت کی کمی اور ناقص مالیاتی نظم و نسق کے باعث یہ دلیل عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔
عالمی تناظر میں موازنہ
اگر عالمی سطح پر موازنہ کیا جائے تو پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں پیٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکسز کی شرح کافی زیادہ ہے، حالانکہ عوام کی قوت خرید اور اوسط آمدنی دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی پالیسیوں میں پیٹرولیم مصنوعات کو بطور “ریونیو سورس” استعمال کیا جا رہا ہے۔
حل کی ضرورت
موجودہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرتے ہوئے متبادل ذرائع آمدن تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع (جیسے سولر، ہائیڈرو، اور ونڈ انرجی) پر سرمایہ کاری بڑھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں عالمی منڈی کی قیمتوں یا ٹیکس پالیسیوں کے اثرات سے بچا جا سکے۔
عوامی فلاح، شفاف پالیسی سازی، اور معاشی انصاف پر مبنی فیصلے ہی پاکستان کو معاشی بحران سے نکال سکتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کا یہ بوجھ اگر اسی طرح برقرار رہا تو اس کے سیاسی، معاشی اور سماجی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔


One Response