حکومت کا بڑا ریلیف: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ دنوں میں کمی کیے جانے کا قوی امکان ہے، جس سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو کسی حد تک ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ممکنہ کمی 16 دسمبر 2025 سے شروع ہونے والے اگلے پندرہ روزہ دورانیے کے لیے متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل منفی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی طلب میں کمی، بعض بڑی معیشتوں میں سست روی، اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے پیداوار میں استحکام جیسے عوامل کے باعث خام تیل کی قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ ان ہی حالات کے پیش نظر وفاقی حکومت مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً 0.36 روپے کی معمولی کمی متوقع ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 11.85 روپے فی لیٹر تک نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ کمی عمل میں آتی ہے تو خاص طور پر ڈیزل استعمال کرنے والے شعبوں، جیسے ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل، کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ممکنہ کمی کو ماہرین معیشت ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ڈیزل براہِ راست عوامی نقل و حمل، مال برداری اور زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی قیمت میں کمی کے نتیجے میں نہ صرف کرایوں میں کمی کا امکان ہے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی دباؤ کم ہو سکتا ہے، جو مہنگائی کی مجموعی شرح میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں متوقع معمولی کمی اگرچہ عوام کے لیے زیادہ نمایاں نہیں سمجھی جا رہی، تاہم حکومت کا یہ اقدام عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کی عکاسی ضرور کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کمی محدود ہونے کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکسز اور لیوی ہیں، جو قیمتوں میں بڑی کمی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر، درآمدی لاگت اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔ اوگرا اپنی سمری وزارتِ خزانہ کو ارسال کرتی ہے، جس کے بعد وزیراعظم کی منظوری سے نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا حتمی تعین کل کیا جائے گا، جس کے بعد وزارتِ خزانہ باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ عوام اور کاروباری حلقے اس اعلان کے منتظر ہیں، کیونکہ موجودہ مہنگائی کے دور میں ایندھن کی قیمتوں میں معمولی سی کمی بھی ریلیف کا باعث بن سکتی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس کی وجہ عالمی منڈی کے غیر یقینی حالات اور مقامی مالیاتی دباؤ ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں عالمی مارکیٹ سے ملنے والے مثبت اشارے حکومت کو عوام دوست فیصلے کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کی جانب سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر حکومت واقعی ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کرتی ہے تو اس کے اثرات جلد ہی روزمرہ زندگی میں محسوس کیے جائیں گے۔ ٹرانسپورٹرز، کسانوں اور صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ ایندھن سستا ہونے سے ان کے اخراجات میں کمی آئے گی، جس کا فائدہ بالآخر صارفین تک منتقل ہونا چاہیے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم عوام کی نظریں حکومت پر جمی ہیں کہ آیا یہ ریلیف مستقل بنیادوں پر فراہم کیا جاتا ہے یا محض عارضی ثابت ہوتا ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت کے فیصلے نہ صرف عوامی اعتماد بلکہ مجموعی معاشی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

