مارکیٹ میں پلاسٹک کے انڈوں کا شور ماہرین نے پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان کا سچ بتا دیا

"پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان کے آسان طریقے اور ماہرین کی وضاحت"
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان حقیقت یا افواہ؟

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں ایک عجیب سی بحث چل رہی ہے— کیا واقعی مارکیٹ میں پلاسٹک کے انڈے فروخت ہو رہے ہیں؟ یہ سوال اتنی رفتار سے پھیلا کہ گھروں میں خوف کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ سوشل میڈیا ویڈیوز نے عوام کی تشویش میں مزید اضافہ کردیا، جس میں لوگ انڈے ابال کر زمین پر پھینکتے اور انہیں اچھلتا ہوا دکھاتے۔

ان حالات میں سب سے اہم سوال یہی بن گیا کہ پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان آخر کیسے کی جائے؟
اسی لیے اس آرٹیکل میں ہم غذائی ماہرین اور فوڈ اتھارٹی کے مؤقف کی روشنی میں حقیقت واضح کریں گے۔

پلاسٹک کے انڈوں کی افواہیں کیسے شروع ہوئیں؟

پاکستان میں اکثر کھانے پینے کی اشیا کی نقل مارکیٹ میں موجود ہوتی ہے، اسی وجہ سے لوگ ہر غیرمعمولی چیز پر شکوک کے بادل جمع کر لیتے ہیں۔ جیسے ہی انڈوں کی زردی یا سفیدی کی ساخت میں معمولی تبدیلی آئی، سوشل میڈیا نے اسے “پلاسٹک کے انڈے” کا نام دے دیا۔

لیکن غذائی ماہرین کے مطابق یہ صرف غلط فہمیاں ہیں۔ عوام جن باتوں کو پلاسٹک سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں کولڈ اسٹوریج میں رکھے گئے انڈوں کے اثرات ہوتے ہیں۔

ماہرین کا مؤقف — پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان کا اصل سچ

اے آر وائی کے شو "گڈ مارننگ پاکستان” میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے نمائندہ محسن بھٹی نے واضح کیا کہ:

مارکیٹ میں پلاسٹک کے انڈے موجود نہیں ہیں۔
انڈوں کو پلاسٹک سے بنانا ممکن نہیں، کیونکہ:

پلاسٹک نہ ابالا جا سکتا ہے

نہ فرائی کیا جا سکتا ہے

نہ آملیٹ بنتا ہے

اس سے بڑی حقیقت کیا ہوگی؟

کولڈ اسٹوریج والے انڈوں کی وجہ سے غلط فہمیاں

گرمیوں میں انڈوں کی کھپت کم ہوتی ہے جبکہ مرغیاں سال بھر انڈے دیتی ہیں۔ اضافی انڈے کولڈ اسٹوریج میں رکھ دیے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جب یہ انڈے کئی ماہ بعد مارکیٹ میں آتے ہیں تو:

سفیدی میں چپکاہٹ بڑھ جاتی ہے
زردی سخت یا لچک دار محسوس ہوتی ہے
انڈا زمین پر پھینکنے سے اچھل جاتا ہے

یہی وہ چیزیں ہیں جنہیں لوگ غلطی سے “پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان” سمجھ لیتے ہیں۔

لیکن پھر اصل پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان کیسے کریں؟

یہ حصہ سب سے اہم ہے، لہٰذا فوکس کی ورڈ 10 بار استعمال کرتے ہوئے انتہائی سادہ انداز میں وضاحت پیش ہے:

1) ابالنے کا ٹیسٹ

اصل انڈہ ابالنے پر سخت ہو جاتا ہے، لیکن پلاسٹک سے بنا کوئی بھی جعلی انڈا کبھی بھی مکمل نہیں پک سکتا۔
یہ طریقہ پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان میں سب سے مؤثر ہے۔

2) خوشبو سے پہچان

پکے ہوئے انڈے کی مخصوص خوشبو ہوتی ہے۔
جعلی انڈا یا پلاسٹک کی کوئی چیز گرم ہو کر پلاسٹک جیسی بدبو دیتی ہے۔
یہ بھی پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان کا واضح اشارہ ہے۔

3) چھلکے کا ٹیسٹ

اصل انڈے کا چھلکا نازک ہوتا ہے، جبکہ کسی بھی پلاسٹک کے جعلی انڈے کا خول سخت، یکساں اور مصنوعی لگے گا۔
یہ خصوصیت بھی پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان میں مدد دیتی ہے۔

4) روشنی میں رکھ کر دیکھیں

اصل انڈے کے اندر پیٹرن اور خالی جگہیں نظر آتی ہیں۔
جعلی یا پلاسٹک کا انڈا اندر سے بالکل ایک جیسا دکھائی دے گا۔
یہ مشاہدہ بھی پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان کا اہم طریقہ ہے۔

5) فرائی کرنے کا ٹیسٹ

فرائی پین میں ڈالنے پر اصل انڈا فوراً سفید ہو جاتا ہے۔
پلاسٹک کا انڈا کبھی بھی فطری طور پر نہیں پک سکتا۔
یہ فرق واضح طور پر پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان کا ثبوت ہے۔

عوام کیوں ڈرتی ہے؟

پاکستان میں پہلے ہی ملاوٹ شدہ کھانے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ دودھ، گھی، مصالحے اور بعض دیگر اشیا میں ناقص مواد کا استعمال سامنے آتا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں جب کوئی شخص انڈے اچھلتے دیکھتا ہے تو فوراً ذہن میں پلاسٹک کا تصور آ جاتا ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ:
"جو انڈے اچھلتے ہیں وہ بھی اصل ہوتے ہیں، صرف پرانے ہوتے ہیں۔”

غذائی ماہرین کا حتمی مؤقف

پاکستان میں پلاسٹک کے انڈے موجود نہیں۔
مارکیٹ میں آنے والی تمام تبدیلیاں محفوظ شدہ انڈوں کی ہوتی ہیں۔
عوام کو گھبرانے کے بجائے پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان کے صحیح طریقے سیکھنے چاہئیں۔

کم سگریٹ پینے کے اثرات صرف ایک یا دو سگریٹ بھی خطرناک

نتیجہ — خوف کم کریں، علم بڑھائیں

یہ جان کر اکثر لوگ حیران ہوتے ہیں کہ پچھلے چند مہینوں میں جتنے بھی انڈے اچھلتے نظر آئے، وہ دراصل پرانے انڈے تھے، پلاسٹک کے نہیں۔

سوشل میڈیا کی افواہوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم درست معلومات حاصل کریں اور پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان کے حقیقی طریقے سمجھیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]