پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1800 پوائنٹس بڑھ گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ نے ایک بار پھر اہم نفسیاتی حد بحال کر لی۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور مثبت معاشی اشاریوں کے باعث بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے مارکیٹ کا مجموعی ماحول خوشگوار دکھائی دیا۔
کاروباری دن کے دوران پی ایس ایکس کا 100 انڈیکس 1801 پوائنٹس کے شاندار اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 86 ہزار 859 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز 100 انڈیکس 1 لاکھ 85 ہزار 57 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، تاہم آج کی تیزی نے گزشتہ دن کی معمولی مندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا اور سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر منافع کے مواقع فراہم کیے۔
مارکیٹ کے آغاز سے ہی خریداری کا رجحان غالب رہا۔ بینکنگ، آئل اینڈ گیس، پاور، سیمنٹ اور ٹیلی کام کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی، جس کے باعث انڈیکس تیزی سے اوپر کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، میوچل فنڈز اور بروکریج ہاؤسز کی جانب سے بھرپور خریداری نے مارکیٹ کو مضبوط سہارا فراہم کیا۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں حالیہ تیزی کی ایک بڑی وجہ ملکی معاشی صورتحال سے متعلق مثبت توقعات ہیں۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات، آئی ایم ایف پروگرام میں پیش رفت اور مہنگائی میں ممکنہ کمی جیسے عوامل اسٹاک مارکیٹ کے لیے مزید تقویت کا باعث بنیں گے۔ اس کے علاوہ شرح سود میں مستقبل میں کمی کی توقعات نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا ہے۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی نسبتاً استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی نے بھی مارکیٹ پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی محدود پیمانے پر دلچسپی دیکھنے میں آئی، جس سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی میں اضافہ ہوا۔
آج کے کاروبار کے دوران کئی بڑی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بینکنگ سیکٹر کے شیئرز میں تیزی کے باعث انڈیکس کو سب سے زیادہ سہارا ملا، جبکہ آئل اینڈ گیس سیکٹر میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بہتری کے اثرات نظر آئے۔ سیمنٹ سیکٹر کے حصص میں بھی تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق مثبت توقعات کے باعث خریداری کا رجحان غالب رہا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ چند سیشنز میں مندی کے بعد آج کی تیزی کو "ٹیکنیکل باؤنس” بھی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مجموعی رجحان اب بھی مثبت دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انڈیکس آئندہ چند دنوں میں 1 لاکھ 87 ہزار کی سطح کو مستحکم انداز میں عبور کر لیتا ہے تو مارکیٹ نئی بلند سطحوں کی جانب بڑھ سکتی ہے۔
سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ تیزی نے ان کے اعتماد کو بحال کیا ہے، تاہم وہ اب بھی محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند مہینوں میں مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، اس لیے زیادہ تر سرمایہ کار قلیل مدتی منافع کے ساتھ ساتھ طویل مدتی سرمایہ کاری پر بھی غور کر رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں استحکام کے لیے پالیسیوں میں تسلسل انتہائی ضروری ہے۔ اگر حکومت معاشی اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھتی ہے اور سیاسی صورتحال میں بہتری آتی ہے تو اسٹاک مارکیٹ مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی غیر متوقع سیاسی یا معاشی پیش رفت کے نتیجے میں مارکیٹ میں ایک بار پھر اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
آج کے کاروبار کے دوران مجموعی طور پر ٹریڈ ہونے والے شیئرز کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے مارکیٹ میں سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ کاری حجم بڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار ایک بار پھر مارکیٹ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں اسٹاک مارکیٹ کا رخ بڑی حد تک مہنگائی کے اعداد و شمار، شرح سود سے متعلق پالیسی اعلانات اور عالمی مارکیٹس کے رجحانات پر منحصر ہوگا۔ اگر عالمی سطح پر اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان برقرار رہتا ہے تو پی ایس ایکس بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز دیکھنے میں آنے والی تیزی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ایک بار پھر مضبوط کیا ہے۔ 100 انڈیکس کا 1 لاکھ 86 ہزار کی سطح پر بحال ہونا مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار تیزی کے لیے معاشی اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

