پی ٹی اے کا بڑا اقدام: ضلعی سطح پر انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے لیے نئے لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ

انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی میں بہتری؛ پی ٹی اے نے کلاس لائسنس کے لیے درخواستیں طلب کر لیں

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے ملک میں ڈیجیٹل انقلاب لانے اور دور دراز علاقوں کو عالمی نیٹ ورک سے جوڑنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ پی ٹی اے نے اب ضلعی سطح پر انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے لیے نئے ‘کلاس لائسنس’ کے اجرا کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

ڈیجیٹل پاکستان ویژن اور پی ٹی اے کا کردار

پاکستان میں براڈ بینڈ کی رسائی کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے پی ٹی اے نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو موقع دیا ہے کہ وہ مقامی سطح پر انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس اقدام سے نہ صرف شہروں بلکہ دیہاتوں میں بھی تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچ سکے گا۔

لائسنس کی مدت اور طریقہ کار

پی ٹی اے کے حالیہ اعلامیے کے مطابق، یہ کلاس لائسنس 10 سال کی طویل مدت کے لیے جاری کیا جائے گا۔ اس کا مقصد سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ طویل مدتی منصوبہ بندی کر سکیں۔ جو کمپنیاں یا افراد ضلعی سطح پر انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے خواہشمند ہیں، وہ پی ٹی اے کے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔

فیس کا ڈھانچہ اور مالیاتی شرائط

نئے لائسنسنگ فریم ورک کو سادہ اور قابل رسائی بنایا گیا ہے۔

  • ابتدائی فیس: درخواست گزار کو لائسنس کے حصول کے لیے ابتدائی طور پر 3 لاکھ روپے یکمشت ادا کرنے ہوں گے۔
  • سالانہ فیس: پہلے سال کے لیے لائسنس کی سالانہ فیس 1 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
  • سالانہ اضافہ: پی ٹی اے کے مطابق، لائسنس فیس میں ہر سال 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جو پیشگی بنیادوں پر ادا کرنا ہوگا۔ یہ فیس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے رکھی گئی ہے کہ صرف سنجیدہ اور باصلاحیت ادارے ہی انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے میدان میں آئیں۔

علاقائی سطح پر فوائد

ضلعی سطح پر لائسنس جاری کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ مقامی انٹرنیٹ فراہم کنندگان (ISPs) اپنے علاقے کی مخصوص ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔ اس سے انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی میں آنے والی تکنیکی رکاوٹیں کم ہوں گی اور صارفین کو سستا اور معیاری انٹرنیٹ میسر آئے گا۔

روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی

جب مقامی سطح پر انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کا نیٹ ورک پھیلے گا، تو اس سے ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ٹیکنیشنز، انجینئرز اور سیلز ٹیموں کی ضرورت مقامی سطح پر پوری کی جائے گی، جس سے ضلعی معیشت کو استحکام ملے گا۔

نادرا بائیومیٹرک تصدیق سہولت: اب چہرے کی شناخت سے ہوگی ویریفیکیشن، فنگر پرنٹس کی شرط ختم

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس کلاس لائسنس کا حتمی مقصد ملک بھر میں براڈبینڈ سہولیات کو عام کرنا ہے۔ مستقبل میں انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے اس ماڈل کو مزید اضلاع تک پھیلایا جائے گا تاکہ "ڈیجیٹل پاکستان” کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

One Response

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]