نادرا بائیومیٹرک تصدیق سہولت: اب چہرے کی شناخت سے ہوگی ویریفیکیشن، فنگر پرنٹس کی شرط ختم

نادرا کا سرکاری لوگو اور ایک شخص جو بائیومیٹرک تصدیق کے لیے چہرے کی شناخت (فیشل ریکوگنیشن) کے عمل سے گزر رہا ہے۔
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نادرا بائیومیٹرک تصدیق سہولت کا دائرہ کار وسیع: بزرگوں اور بیماروں کے لیے چہرے کی شناخت کا نیا نظام متعارف

پاکستان کے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کی دیرینہ مشکل حل کر دی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بزرگ شہریوں یا مشقت کا کام کرنے والے افراد کے فنگر پرنٹس مٹ جانے کی وجہ سے انہیں بائیومیٹرک میں شدید دشواری ہوتی تھی۔ اب نادرا بائیومیٹرک تصدیق سہولت کے تحت اس مسئلے کا مستقل حل پیش کر دیا گیا ہے۔

فیس ریکگنیشن نادرا معمر افراد کیلئے نیا سہولت نظام

چہرے کی شناخت پر مبنی جدید ٹیکنالوجی

نادرا نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی خصوصی ہدایات پر اپنی خدمات کو مزید جدید بناتے ہوئے "فیشل ریکوگنیشن” (چہرے کی شناخت) کا نظام فعال کر دیا ہے۔ اس نئی نادرا بائیومیٹرک تصدیق سہولت کے بعد اب ان افراد کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جن کے انگوٹھے کے نشانات سسٹم میں میچ نہیں ہوتے تھے۔

پاک آئی ڈی موبائل ایپ اور ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ

حکومت نے شناختی کارڈ کے قوانین میں باقاعدہ ترمیم کر دی ہے تاکہ بائیومیٹرک کی تعریف میں چہرے کی شناخت کو بھی شامل کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے نادرا کی ‘پاک آئی ڈی’ موبائل ایپ کا استعمال کیا جائے گا۔ نادرا بائیومیٹرک تصدیق سہولت کے ذریعے اب شہری اپنے گھر بیٹھے یا نادرا مرکز جا کر چہرے کی تصویر کے ذریعے اپنی شناخت کی تصدیق کروا سکیں گے۔

20 جنوری سے باقاعدہ اجرا

نادرا کے ترجمان کے مطابق، 20 جنوری سے ملک بھر کے تمام رجسٹریشن مراکز پر چہرے کی شناخت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اگر کسی شہری کے فنگر پرنٹس کی تصدیق نہیں ہوتی، تو وہ قریبی سینٹر جا کر چہرے کی شناخت کا عمل مکمل کرے گا اور اسے ایک خصوصی سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ اس سرٹیفکیٹ پر کیو آر کوڈ (QR Code) اور ٹریکنگ آئی ڈی ہوگی جو اسے مستند بنائے گی۔

سرٹیفکیٹ کی خصوصیات اور مدت

یہ نیا سرٹیفکیٹ جو نادرا بائیومیٹرک تصدیق سہولت کا حصہ ہے، جاری ہونے کے بعد 7 دن تک کے لیے قابلِ استعمال ہوگا۔ اس پر شہری کا نام، ولدیت، شناختی کارڈ نمبر اور تصویر درج ہوگی۔ اس سرٹیفکیٹ کو بینکوں، جائیداد کی منتقلی اور دیگر سرکاری و نجی اداروں میں بائیومیٹرک کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔

اداروں کو ہدایات اور شکایات کا ازالہ

نادرا نے تمام سرکاری اور نجی اداروں، بشمول بینکوں کو اس نئی نادرا بائیومیٹرک تصدیق سہولت کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ اگر 20 جنوری کے بعد کوئی ادارہ اس سرٹیفکیٹ کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، تو شہری اس کے خلاف نادرا یا متعلقہ حکام کو شکایت درج کروا سکیں گے۔

خلیجی ممالک میں ملازمتیں اور اے آئی کا اثر: 15 لاکھ نئی اسامیوں کی خوشخبری

خلاصہ یہ کہ نادرا بائیومیٹرک تصدیق سہولت ڈیجیٹل پاکستان کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جس سے لاکھوں شہریوں کی روزمرہ مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]