پنجاب میں خطرناک اسکول عمارتیں سیل کرنے کا حکم، طلبہ کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے مراسلہ جاری
محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبہ بھر میں موجود خطرناک اسکول عمارتیں فوری طور پر خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ حالیہ بارشوں اور عمارتوں کی بوسیدہ حالت کے پیش نظر، حکومت نے یہ سخت فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ طلبہ کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ضلعی اتھارٹیز کو جاری کردہ خصوصی مراسلہ
پنجاب کے تمام اضلاع کے سی ای اوز (CEOs) کو بھیجے گئے مراسلے میں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود تمام خطرناک اسکول عمارتیں اور جزوی طور پر متاثرہ کمروں کی نشاندہی کریں۔ ان عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہاں تعلیمی سرگرمیاں جاری نہ رہ سکیں۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ بہت سی خطرناک اسکول عمارتیں ایسی ہیں جو کسی بھی وقت گر سکتی ہیں، لہٰذا ان کا استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
طلبہ کے داخلے پر مکمل پابندی
مراسلے کے مطابق، کسی بھی صورت میں طلبہ کو ان خطرناک اسکول عمارتیں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام نے سختی سے منع کیا ہے کہ کوئی بھی طالب علم ایسی جگہوں پر نہ تو بیٹھ سکتا ہے اور نہ ہی وہاں کسی قسم کی تدریس کی جا سکتی ہے۔ اس پابندی کا مقصد بچوں کو ایک محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے، کیونکہ خطرناک اسکول عمارتیں کسی بھی حادثے کی صورت میں بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔
سائن بورڈز کی تنصیب اور عوامی آگاہی
محکمہ اسکول ایجوکیشن نے تمام ہیڈ ٹیچرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ خطرناک اسکول عمارتیں کے باہر نمایاں طور پر "خطرہ” کے سائن بورڈ آویزاں کریں۔ یہ بورڈز اس لیے ضروری ہیں تاکہ والدین اور راہگیروں کو معلوم ہو سکے کہ یہ عمارت محفوظ نہیں ہے۔ خطرناک اسکول عمارتیں کی نشاندہی کے بعد، وہاں متبادل جگہوں پر کلاسز منعقد کرنے کے انتظامات کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
ذمہ داری کا تعین اور تادیبی کارروائی
حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کسی اسکول میں حادثہ پیش آیا، تو اس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ ضلعی ایجوکیشن اتھارٹی اور اسکول کے ہیڈ ٹیچر پر عائد ہوگی۔ اگر کسی نے غفلت برتتے ہوئے بچوں کو ان خطرناک اسکول عمارتیں میں بٹھایا، تو ان کے خلاف پیڈا ایکٹ (PEEDA Act) کے تحت سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اس سخت وارننگ کا مقصد تمام ذمہ داران کو الرٹ کرنا ہے کہ وہ خطرناک اسکول عمارتیں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل اور مرمت کے منصوبے
پنجاب حکومت نے صرف عمارتیں خالی کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ ان خطرناک اسکول عمارتیں کی مرمت اور بحالی کے لیے بھی بجٹ مختص کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ محکمہ تعمیرات و مواصلات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان عمارتوں کا تخمینہ لگائیں تاکہ جلد از جلد نئی عمارتوں کی تعمیر یا پرانیوں کی مرمت کا کام مکمل ہو سکے۔ جب تک یہ کام مکمل نہیں ہوتا، خطرناک اسکول عمارتیں مکمل طور پر بند رہیں گی۔
تعلیمی اداروں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ: پنجاب میں نیا تعلیمی کیلنڈر تیار
آخر میں، محکمہ تعلیم کا یہ اقدام نہایت خوش آئند ہے۔ خطرناک اسکول عمارتیں کو خالی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ قوم کے معماروں کا مستقبل محفوظ رہے۔ والدین نے بھی حکومت کے اس فیصلے کو سراہا ہے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خطرناک اسکول عمارتیں کے متبادل کے طور پر بچوں کے لیے فوری اور محفوظ تعلیمی مراکز فراہم کیے جائیں تاکہ ان کا تعلیمی حرج نہ ہو۔