ٹیکنالوجی کا نیا شاہکار اب روبوٹ میں درد کا احساس پیدا کرنے کے لیے مصنوعی جلد تیار

روبوٹ میں درد کا احساس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

انسانوں جیسی حسِ لطافت: کیا اب روبوٹ میں درد کا احساس مشین کو انسان بنا دے گا؟

ٹیکنالوجی کی دنیا میں آئے روز نئی ایجادات ہمیں ورطہِ حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ جہاں پہلے روبوٹس کو صرف مشینی کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، وہیں اب ان میں انسانی جذبات اور حسیں منتقل کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ اس سمت میں سب سے بڑی پیش رفت روبوٹ میں درد کا احساس پیدا کرنا ہے، جس نے سائنس فکشن فلموں کی کہانیوں کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور انسانی حس کا سنگم

زمانہ قدیم سے انسان ایسی مشینیں بنانے کا خواب دیکھتا رہا ہے جو بالکل اس کی طرح کام کریں۔ آج روبوٹ ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، چاہے وہ سرجری کا شعبہ ہو یا خلائی تحقیق۔ لیکن ان میں اب تک ایک بڑی کمی تھی: وہ لمس اور تکلیف کو محسوس نہیں کر سکتے تھے۔ اب جدید ریسرچ کے بعد روبوٹ میں درد کا احساس پیدا کرنے کے لیے ایسی مصنوعی جلد تیار کر لی گئی ہے جو انسانی اعصابی نظام کی نقل کرتی ہے۔

ہانگ کانگ کے سائنسدانوں کا انقلابی تجربہ

غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی کے ماہر انجینئر ‘یو یوگاؤ’ اور ان کی ٹیم نے روبوٹس کے لیے ایک خاص مصنوعی جلد تیار کی ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ روبوٹ میں درد کا احساس اس طرح پیدا کیا جائے کہ وہ بیرونی خطرات سے خود کو بچا سکے۔ یہ جلد نیورومورفک ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو اسے عام پلاسٹک یا ربڑ کی تہوں سے منفرد بناتی ہے۔

نیورومورفک ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟

یہ مصنوعی جلد چار فعال تہوں (Layers) پر مشتمل ہے۔ جب بھی کوئی چیز اس جلد کو چھوتی ہے، تو یہ لمس کو برقی سگنلز میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ عمل بالکل ویسا ہی ہے جیسے انسانی جلد کے خلیات دماغ کو پیغام بھیجتے ہیں۔ روبوٹ میں درد کا احساس پیدا کرنے کے لیے ان سگنلز کی شدت کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ اگر لمس ہلکا ہو تو روبوٹ اسے عام رابطہ سمجھتا ہے، لیکن دباؤ بڑھنے پر اسے ‘درد’ کے طور پر رجسٹر کرتا ہے۔

ریفلیکس سسٹم: فوری ردعمل کی صلاحیت

اس ایجاد کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کا ریفلیکس سسٹم ہے۔ عام طور پر روبوٹ کو کوئی بھی عمل کرنے کے لیے مرکزی پروسیسر (دماغ) سے ہدایات کا انتظار کرنا پڑتا ہے، جس میں وقت ضائع ہوتا ہے۔ تاہم، روبوٹ میں درد کا احساس ہوتے ہی یہ سسٹم ہائی وولٹیج پلس بھیجتا ہے، جس سے روبوٹ کا اعضاء (ہاتھ یا پیر) فوراً پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ہم کسی گرم استری کو چھوتے ہی بنا سوچے اپنا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔

درد کا احساس کیوں ضروری ہے؟

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ایک مشین کو تکلیف پہنچانے کا کیا فائدہ؟ درحقیقت، روبوٹ میں درد کا احساس اسے ٹوٹ پھوٹ اور حادثات سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر ایک روبوٹ کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کوئی نوکیلی چیز اسے نقصان پہنچا رہی ہے، تو وہ اپنی مشینری خراب کر بیٹھے گا۔ اس حس کے ذریعے روبوٹ اپنی حفاظت خود کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

انسانی زندگی پر اس کے اثرات

مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ان روبوٹس کے لیے انتہائی کارآمد ہوگی جو انسانوں کے ساتھ گھروں یا ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں۔ روبوٹ میں درد کا احساس اسے زیادہ محتاط بنائے گا، جس سے انسانوں کے ساتھ اس کا تعامل (Interaction) محفوظ تر ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر، اگر روبوٹ کسی بچے کو پکڑ رہا ہے، تو اسے معلوم ہوگا کہ کتنا دباؤ ڈالنا ہے اور کہاں رکنا ہے۔

ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلو

سائنسدانوں کے مطابق، اس مرحلے پر روبوٹ میں درد کا احساس صرف ایک حفاظتی میکانزم ہے، یہ وہ نفسیاتی تکلیف نہیں جو انسان محسوس کرتے ہیں۔ تاہم، جس تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، وہ وقت دور نہیں جب مشینوں اور انسانوں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ماہرین اسے ‘روبوٹک ایوولیوشن’ کا نام دے رہے ہیں۔

دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ تیار، جو نمک کے دانے سے بھی چھوٹا ہے

خلاصہ یہ کہ ہانگ کانگ کے انجینئرز نے روبوٹ میں درد کا احساس پیدا کر کے ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ یہ مصنوعی جلد نہ صرف روبوٹس کو حساس بنائے گی بلکہ انہیں زیادہ ‘سمارٹ’ اور خود مختار بھی بنائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مستقبل میں یہ مشینیں انسانی جذبات کو بھی سمجھ سکیں گی؟

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]