عدالت نے روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن معطل کرنے پر غور شروع کر دیا

اسلام آباد میں روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

اسلام آباد میں حالیہ دنوں ایک اہم قانونی تنازعہ سامنے آیا ہے جہاں روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے نے شہریوں، نانبائیوں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ نانبائی ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انتظامیہ نے زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسا فیصلہ کیا جس سے نانبائیوں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

عدالت میں سماعت کی تفصیلات

کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔ دورانِ سماعت نانبائی ایسوسی ایشن کے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے مؤقف اپنایا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب اور معاشی بحران کے بعد آٹے اور گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ان مسائل کو نظرانداز کیا۔

عدالت کے ریمارکس اور حکم

عدالت نے واضح کیا کہ یکطرفہ فیصلے کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ فریقین کے مؤقف کو سنے بغیر روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ناانصافی کے مترادف ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد 30 ستمبر کو نانبائی ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کریں اور ان کے تحفظات سنیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ یکم اکتوبر کو اس کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

نانبائی ایسوسی ایشن کا مؤقف

نانبائی ایسوسی ایشن کے وکیل نے مؤقف دیا کہ انتظامیہ نے ان کے خدشات کو بالکل نظرانداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب گندم اور آٹے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں تو حکومت کس بنیاد پر روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر رہی ہے؟ وکیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے ایسوسی ایشن کی بات سننے سے بھی انکار کیا جس کی وجہ سے نانبائی برادری شدید مشکلات میں مبتلا ہے۔

شہریوں پر اثرات

یہ معاملہ صرف نانبائیوں تک محدود نہیں بلکہ براہِ راست عوام کو متاثر کر رہا ہے۔ ایک طرف مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف حکومت چاہتی ہے کہ روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن نافذ کر کے قیمتوں کو قابو میں رکھا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتیں حکومتی سطح پر کم کی جائیں تو یہ عوام کے لیے ریلیف کا باعث ہوگا، لیکن نانبائیوں کا مؤقف بھی درست ہے کہ جب خام مال مہنگا ہوگا تو سستی روٹی اور نان فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ضلعی انتظامیہ کا نقطہ نظر

ضلعی انتظامیہ کے مطابق روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن عوام کو ریلیف دینے کے لیے جاری کیا گیا۔ انتظامیہ چاہتی ہے کہ عام آدمی کی قوتِ خرید کے مطابق قیمتوں کو برقرار رکھا جائے تاکہ بڑھتی مہنگائی کے دور میں عوام کو سہولت میسر ہو۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف عوام کو دیکھنا کافی نہیں، اس کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کے خدشات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

ممکنہ حل

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا پائیدار حل صرف بات چیت اور باہمی مشاورت سے نکل سکتا ہے۔ عدالت نے جو احکامات دیے ہیں وہ اسی سمت میں ایک مثبت قدم ہیں۔ اگر نانبائی ایسوسی ایشن اور ضلعی انتظامیہ مل کر ایک متفقہ فارمولا طے کر لیں تو مستقبل میں اس طرح کے تنازعات سے بچا جا سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے: روٹی پر گھی صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

یہ معاملہ صرف روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے مجموعی معاشی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ مہنگائی، سیلاب اور دیگر مسائل کے باعث ہر طبقہ مشکلات کا شکار ہے۔ عدالت نے وقتی طور پر نانبائیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی سے روک دیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور ضلعی انتظامیہ عوام اور نانبائیوں دونوں کو ایک ساتھ ریلیف فراہم کر پائے گی یا نہیں؟

فی الحال سب کی نظریں عدالت کی آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں جہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ روٹی اور نان کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن برقرار رہے گا یا اسے واپس لے لیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]