افغانستان کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ، غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے : سراج الدین حقانی

سراج الدین حقانی کا پاکستان کے لیے مفاہمتی پیغام، مذاکرات کے دروازے کھلے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

افغانستان کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ، غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے : سراج الدین حقانی

عبوری افغان طالبان حکومت کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کے لیے مفاہمتی پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں اور تمام غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔

کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے کہا کہ طالبان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں کی پاسداری کر رہی ہے اور افغانستان کی سرزمین کسی بھی ریاست کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

افغان طالبان کے سرکاری میڈیا کے مطابق، سراج الدین حقانی نے واضح کیا کہ ان کی قیادت عالمی برادری کے ساتھ بداعتمادی اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور دیرپا حل تلاش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مسائل کا واحد حل بات چیت ہے اور مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔

تاہم، ماضی میں دی گئی یقین دہانیوں اور دوحہ معاہدے کے باوجود پاکستان میں سرحد پار دراندازی اور دہشت گرد حملے بدستور جاری ہیں، جن کا الزام پاکستان کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر عائد کرتا رہا ہے۔

اگرچہ سراج الدین حقانی نے اپنے بیان میں پاکستان کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے ریمارکس کو پاکستان کے اس دیرینہ مطالبے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جس میں کابل حکومت سے ٹی ٹی پی کو لگام دینے کا کہا جاتا رہا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن: 40 لاکھ کا انعامی دہشت گرد ’دلاور‘ ساتھی سمیت ہلاک
ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گرد کا ٹھکانہ۔

واضح رہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد شدید کشیدگی کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں 11 اکتوبر 2025 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہیں بند ہیں۔

ذرائع کے مطابق، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے کے لیے تحریری یقین دہانی دینے سے انکار کیا، جس کے باعث 2600 کلومیٹر طویل غیرمحفوظ سرحد کے ذریعے جنگجو پاکستان میں داخل ہو کر حملے کرتے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سراج الدین حقانی کے حالیہ بیانات اس لیے بھی اہم تصور کیے جا رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی نے ان سے بیعت لے رکھی ہے اور ایک طویل عرصے سے افغانستان کے ان علاقوں سے سرگرم ہے جو حقانی نیٹ ورک کے زیرِ اثر رہے ہیں۔

اسی پس منظر میں سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی کو قطر اور ترکی میں پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کرنے والی افغان طالبان ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ طالبان قیادت سفارتی سطح پر تناؤ کم کرنے کی خواہاں ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]