تیراہ آپریشن نوٹیفکیشن واپس نہ لیا تو پختون جرگہ بلاؤں گا، مجھے ہٹانے کے تین آپشن ہیں: سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مینگورہ میں خطاب کرتے ہوئے تیراہ آپریشن نوٹیفکیشن واپس لو
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تیراہ آپریشن نوٹیفکیشن واپس نہ لیا تو پختون جرگہ بلاؤں گا، مجھے ہٹانے کے تین آپشن ہیں، صوبے میں گورنر راج لگایا جائے، یا انہیں نااہل کیا جائے، یا پھر انہیں قتل کر دیا جائے: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

پشاور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے خبردار کیا ہے کہ اگر وادی تیراہ کو خالی کرنے سے متعلق وفاقی حکومت کا نوٹی فکیشن واپس نہ لیا گیا تو وہ پوری پختون قوم کا جرگہ بلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے تین آپشنز دیے گئے ہیں، یا تو صوبے میں گورنر راج لگایا جائے، یا انہیں نااہل کیا جائے، یا پھر انہیں قتل کر دیا جائے۔

مینگورہ میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تیراہ آپریشن نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تیراہ کے متاثرین اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، حالانکہ یہ مؤقف زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تیراہ آپریشن نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا اور اس پر باضابطہ معافی نہ مانگی گئی تو پہلے آفریدی قوم اور بعد ازاں پوری پختون قوم کا جرگہ بلایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ اگر الزام غلط ثابت ہوا تو وہ خود نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو واپس وادی تیراہ لے کر جائیں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر لوگ رضاکارانہ طور پر علاقے چھوڑ رہے ہیں تو آخر وہ اپنے گھر کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں، کیا وہ کسی شادی میں شرکت کے لیے نکلے تھے؟

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے نام پر اعتراضات کیے گئے اور انہیں وزیراعلیٰ بننے سے روکنے کے لیے ہر حربہ آزمایا گیا۔ جب سیاسی بیانیہ ناکام ہوا تو انہیں دہشت گردوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب یہ تمام بیانیے ناکام ہوئے تو آخرکار انہیں ہٹانے کے تین آپشنز سامنے رکھے گئے۔

اسد قیصر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، نئے فری اینڈ فیئر انتخابات
اسد قیصر کا کہنا ہے کہ عوام کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق دیا جائے

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا اعتماد ختم کرنے کے لیے گورنر راج اور قتل جیسے بیانیے گھڑے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق تیراہ میں آپریشن کے لیے بنائی گئی 24 رکنی کمیٹی کو دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ یہ تاثر دیا گیا کہ صوبائی حکومت فوج یا اداروں کے خلاف ہے، حالانکہ ایسا بالکل نہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وہ نہ فوج کے مخالف ہیں اور نہ ہی اداروں کے، بلکہ وہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو اداروں سے تمام رابطے تحریری اور شواہد کے ساتھ کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے تاکہ بعد میں کوئی انکار ممکن نہ ہو۔

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ آئندہ اتوار کو وادی تیراہ کا جرگہ بلایا جائے گا، جہاں عوام سے براہ راست پوچھا جائے گا کہ آیا انہیں زبردستی نکالا جا رہا ہے یا وہ خود نقل مکانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر دو دن کے اندر تیراہ آپریشن نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا اور معافی نہ مانگی گئی تو وہ پوری پختون قوم کا جرگہ بلانے پر مجبور ہوں گے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]