وادی تیراہ سے نقل مکانی معمول کا حصہ، کوئی آپریشن نہیں، خیبرپختونخوا حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ وفاق پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے: خواجہ آصف
اسلام آباد:وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ برفباری کے دوران وادی تیراہ سے نقل مکانی ہر سال کا معمول ہے، اس کا کسی فوجی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس وقت کسی قسم کا آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ وفاق پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ افغان سرحد کے ساتھ واقع 6 سے 7 وادیوں میں برفباری شروع ہوتے ہی لوگوں کی وادی تیراہ سے نقل مکانی معمول کا حصہ ہے، اسے بلاوجہ بحران بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی ہنگامی صورتحال نہیں جسے غیر ضروری طور پر کرائسز کی شکل دی جا رہی ہو۔

وزیر دفاع کے مطابق 11 دسمبر کو ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں تقریباً 26 مشران نے شرکت کی۔ جرگے نے ٹی ٹی پی سے ملاقات کی اور صورتحال سے آگاہی حاصل کی، بعد ازاں مشران نے صوبائی حکومت سے بھی ملاقات کر کے معاملات طے کیے۔ انہوں نے کہا کہ جرگے اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان باقاعدہ اتفاق رائے ہوا اور اس مقصد کے لیے چار ارب روپے مختص کیے گئے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کئی سال پہلے ہو چکا ہے اور اب صرف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کا فیصلہ ہوا تھا۔ فوج طویل عرصے سے وہاں بڑے آپریشنز ترک کر چکی ہے، اس لیے موجودہ حالات میں کسی نئے آپریشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اس علاقے میں ہیمپ (منشیات نما فصل) کی کاشت ہوتی ہے جس سے حاصل ہونے والا پیسہ ٹی ٹی پی کو جاتا ہے۔ وزیر دفاع کے مطابق پاکستان کے کئی علاقوں میں ہیمپ کی کاشت ہوتی ہے اور فی ایکڑ 12 ہزار روپے منافع کہیں اور نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ 11 دسمبر کے بعد جرگے کے مزید مراحل 24 اور 31 دسمبر کو بھی ہوئے، جبکہ یہ جرگہ کئی سال پہلے تشکیل دیا جا چکا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ نوٹیفکیشن اور جرگے کی موجودگی میں فوج کا کردار کہاں سے سامنے آ رہا ہے، یہ سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے معاملے کو غیر معمولی رنگ دے رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے اس صورتحال کو جان بوجھ کر پیچیدہ بنانے کی کوشش کی۔
انہوں نے وادی تیراہ سے نقل مکانی والے متاثرین کے کیمپوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن کیمپوں میں لوگوں کو رکھا گیا ہے وہ بنیادی ضروریات پوری نہیں کر رہے، جبکہ ان کیمپوں میں خواتین اور بچے بھی موجود ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ فوجی آپریشنز سے متعلق تمام باتیں محض مفروضوں پر مبنی ہیں۔
آخر میں خواجہ آصف نے صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ چار ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت واقعی عوام کی بہتری چاہتی ہے تو وفاق مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام پاکستان کے عوام ہیں اور ان کی فلاح و بہبود وفاق کی ذمہ داری ہے۔
تیراہ سے نقل مکانی ایک روٹین کا کام ہے یہ کوئی بحران نہیں ہے۔ یہ برٹش راج کے گیزٹ میں بھی لکھا ہوا ہے، خواجہ آصف pic.twitter.com/WlTuvpTJUj
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) January 27, 2026
One Response