سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی، عالمی و مقامی مارکیٹ میں بڑی خبر
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل سات روز تک اضافے کے بعد آخرکار عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں پہلی بار کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور خریداروں دونوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان جاری تھا، تاہم آج عالمی مارکیٹ میں معمولی کمی کے بعد پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے اور چاندی کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی آنے کے بعد اس کے اثرات فوری طور پر پاکستان کی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے۔ عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 7 ڈالر کم ہو کر 5 ہزار 178 ڈالر کی سطح پر آ گئی۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر ڈالر کی قدر، سرمایہ کاروں کے رجحانات اور معاشی اشاریوں میں اتار چڑھاؤ سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کم ہوتی ہے تو اس کا اثر مقامی مارکیٹوں میں بھی نظر آتا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مقامی صرافہ بازاروں کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 700 روپے کم ہو کر 5 لاکھ 40 ہزار 562 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی اور یہ 600 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 63 ہزار 444 روپے تک پہنچ گئی۔ اس کمی کے باوجود سونے کی قیمتیں اب بھی تاریخی بلند سطح کے قریب ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اور خریدار دونوں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی روز سے سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، جس کے بعد آج کی کمی کو ایک قدرتی اصلاح (Correction) قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جب قیمتیں مسلسل اوپر جاتی ہیں تو کسی نہ کسی مرحلے پر مارکیٹ میں معمولی کمی آتی ہے تاکہ توازن برقرار رہ سکے۔
صرف سونا ہی نہیں بلکہ چاندی کی قیمتوں میں بھی واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 350 روپے کم ہو کر 9 ہزار 204 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام چاندی کی قیمت میں بھی کمی ہوئی اور یہ 301 روپے کم ہو کر 7 ہزار 890 روپے تک پہنچ گئی۔ چاندی کی قیمتوں میں کمی بھی عالمی مارکیٹ کے رجحان کے مطابق ہوئی ہے، کیونکہ چاندی کی قیمتیں بھی عالمی طلب اور رسد کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔
پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرنے والی تنظیم All Pakistan Sarafa Gems and Jewellers Association کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات مقامی سطح پر فوری طور پر نظر آتے ہیں۔ اسی وجہ سے آج سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق سونا ہمیشہ سے ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ جب عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم جب عالمی مالیاتی حالات میں کچھ استحکام آتا ہے یا ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں عالمی معیشت، مہنگائی کی شرح اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں نے بھی سونے کی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر معاشی حالات میں تبدیلی آتی رہی تو آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں کمی کا اثر عام خریداروں پر بھی پڑتا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو شادی بیاہ یا سرمایہ کاری کے لیے سونا خریدنا چاہتے ہیں۔ قیمتوں میں کمی کے باعث کچھ خریدار مارکیٹ کا رخ کر سکتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی بھی قیمتیں کافی بلند سطح پر موجود ہیں، اس لیے خریدار محتاط انداز میں خریداری کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سرمایہ کار بھی سونے کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ سونا ایک ایسی دھات ہے جسے طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو بعض سرمایہ کار اسے خریدنے کا موقع سمجھتے ہیں، جبکہ قیمتوں میں اضافہ ہونے پر فروخت کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔
چاندی کی قیمتوں میں کمی بھی مختلف صنعتی اور سرمایہ کاری عوامل سے جڑی ہوتی ہے۔ چاندی نہ صرف زیورات میں استعمال ہوتی ہے بلکہ مختلف صنعتی شعبوں میں بھی اس کی طلب موجود رہتی ہے۔ اس لیے عالمی سطح پر طلب و رسد میں تبدیلی چاندی کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں اگر عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں استحکام آتا ہے تو مقامی مارکیٹ میں بھی قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں۔ تاہم اگر عالمی سطح پر معاشی حالات میں مزید تبدیلیاں آئیں تو اس کے اثرات مقامی مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مسلسل سات روز تک اضافے کے بعد سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اگرچہ یہ کمی محدود ہے، لیکن اس نے مارکیٹ کے رجحان میں ایک تبدیلی کی نشاندہی ضرور کی ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی اور مقامی معاشی عوامل اس بات کا تعین کریں گے کہ قیمتی دھاتوں کی قیمتیں کس سمت جاتی ہیں اور سرمایہ کار کس طرح اپنی حکمت عملی مرتب کرتے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سونا اور چاندی نہ صرف قیمتی دھاتیں ہیں بلکہ یہ عالمی معیشت کے اتار چڑھاؤ کا بھی ایک اہم آئینہ سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار، کاروباری افراد اور عام شہری سب ہی ان کی قیمتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، کیونکہ ان کی قیمتوں میں ہونے والی معمولی تبدیلی بھی معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

