سونے کی قیمت میں اضافہ: عالمی مارکیٹ میں سونا 4379 ڈالر، پاکستان میں فی تولہ 4 لاکھ 60 ہزار روپے سے تجاوز
عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے سرمایہ کاروں، تاجروں اور عام خریداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک دن قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد اب اچانک سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے مارکیٹ میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ آیا یہ اضافہ عارضی ہے یا آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی دیکھنے میں آئے گی۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 57 امریکی ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سونا بڑھ کر 4379 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی تھی اور سونا 24 ڈالر سستا ہو کر 4322 ڈالر فی اونس تک گر گیا تھا۔
مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
عالمی مارکیٹ میں اضافے کے اثرات براہِ راست مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ میں ایک تولہ سونے کی قیمت میں 5700 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ایک تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 60 ہزار 262 روپے ہو گئی ہے۔ یہ قیمت عام خریدار کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کر چکی ہے۔
اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 4887 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد دس گرام سونا 3 لاکھ 94 ہزار 600 روپے پر پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا دباؤ، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، اور بین الاقوامی معاشی غیر یقینی صورتحال سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں ایک تولہ چاندی 227 روپے مہنگی ہو گئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 7862 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ چاندی کی قیمت سونے کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، تاہم اس میں ہونے والا اضافہ بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو کم سرمایہ کے ساتھ قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔
گزشتہ روز قیمتوں میں کمی کا پس منظر
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ برقرار رہا تھا۔ عالمی مارکیٹ میں سونا 24 ڈالر سستا ہو کر 4322 ڈالر فی اونس تک آ گیا تھا، جبکہ مقامی مارکیٹ میں ایک تولہ سونا 2400 روپے سستا ہونے کے بعد 4 لاکھ 54 ہزار 562 روپے پر آ گیا تھا۔
اسی طرح دس گرام سونا 2058 روپے کی کمی کے ساتھ 3 لاکھ 89 ہزار 713 روپے میں فروخت ہو رہا تھا، جبکہ ایک تولہ چاندی 83 روپے کمی کے بعد 7635 روپے تک گر گئی تھی۔ اس کمی کے بعد بہت سے خریداروں نے امید کی تھی کہ شاید سونے کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی، تاہم تازہ اضافہ ان توقعات کے برعکس ثابت ہوا۔
قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجوہات
ماہرین معاشیات اور صرافہ مارکیٹ سے وابستہ افراد کے مطابق سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اس شدید اتار چڑھاؤ کی کئی وجوہات ہیں۔ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی، بڑی معیشتوں میں شرح سود سے متعلق فیصلے، امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی، اور مہنگائی کے خدشات قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ عالمی سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ جب حالات کچھ بہتر ہوتے دکھائی دیتے ہیں تو قیمتوں میں کمی آ جاتی ہے، جیسا کہ گزشتہ روز دیکھا گیا۔
سرمایہ کاروں اور عوام کے لیے پیغام
موجودہ صورتحال میں ماہرین سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے باعث فوری فیصلے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سونا طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر اب بھی ایک محفوظ ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم خرید و فروخت سے قبل مارکیٹ کے رجحانات اور عالمی حالات کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔
عام صارفین، خاص طور پر وہ افراد جو شادی بیاہ یا دیگر تقریبات کے لیے زیورات خریدنا چاہتے ہیں، ان کے لیے موجودہ قیمتیں ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ صرافہ مارکیٹ کے مطابق اگر عالمی حالات میں مزید غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ اس وقت شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ایک دن کی کمی کے بعد اگلے ہی دن بڑا اضافہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ کس قدر حساس ہو چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی فیصلے اور سیاسی حالات یہ طے کریں گے کہ سونے اور چاندی کی قیمتیں کس سمت میں جائیں گی، تاہم فی الحال خریداروں اور سرمایہ کاروں کو محتاط اور باخبر رہنے کی اشد ضرورت ہے۔

