سونے کی قیمت میں تاریخی کمی، 4 روز بعد عالمی و مقامی مارکیٹیں لرز گئیں
چار روزہ مسلسل اضافے کے بعد سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں نمایاں اور بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں، تاجروں اور عام خریداروں کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ عالمی سطح پر معاشی دباؤ، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 214 امریکی ڈالر کی بھاری کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سونے کی نئی عالمی قیمت 4 ہزار 850 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بلند ہو گئی تھیں، جس کے بعد منافع سمیٹنے کے رجحان نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا اور قیمتوں میں واضح کمی واقع ہوئی۔
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے اثرات مقامی مارکیٹوں پر بھی فوری طور پر مرتب ہوئے۔ پاکستان کے مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط خالص سونے کی فی تولہ قیمت میں 21 ہزار 400 روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 5 لاکھ 7 ہزار 762 روپے فی تولہ کی سطح پر آ گئی ہے۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 18 ہزار 347 روپے کی کمی ہوئی اور نئی قیمت 4 لاکھ 35 ہزار 324 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ملکی صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمتوں میں اس نمایاں کمی کو حالیہ مہینوں کی سب سے بڑی گراوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاجروں کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث خریداری کا رجحان کم ہو گیا تھا، تاہم موجودہ کمی کے بعد مارکیٹ میں ایک بار پھر خریداروں کی دلچسپی بحال ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 1 ہزار 430 روپے کی کمی سے 7 ہزار 825 روپے کی سطح پر آ گئی ہے، جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 1 ہزار 226 روپے گھٹ کر 6 ہزار 708 روپے مقرر کی گئی ہے۔ چاندی کی قیمتوں میں کمی نے زیورات سازی اور صنعتی شعبے سے وابستہ افراد کو جزوی ریلیف فراہم کیا ہے۔
ماہرینِ معیشت اور بلین مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ، امریکی فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی، شرح سود سے متعلق قیاس آرائیاں اور سرمایہ کاروں کا رجحان سونے کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ڈالر کی قدر میں مضبوطی اور دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع میں دلچسپی بڑھنے کے باعث سونے سے سرمایہ جزوی طور پر نکلتا ہوا نظر آیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا طویل مدت میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم قلیل مدت میں اس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔ موجودہ کمی کو بعض ماہرین تکنیکی اصلاح (Correction) قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے پیش نظر سونے کی قیمتیں دوبارہ استحکام حاصل کر سکتی ہیں۔
صرافہ بازار سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے باوجود خریدار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عام شہری، خاص طور پر شادی بیاہ کے لیے زیورات خریدنے والے افراد، قیمتوں میں مزید کمی کے انتظار میں ہیں۔ تاہم اگر قیمتیں موجودہ سطح پر مستحکم رہتی ہیں تو آنے والے دنوں میں خریداری میں اضافہ متوقع ہے۔
دوسری طرف سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اس قدر بڑی کمی مختصر مدت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، مگر طویل المدت سرمایہ کار اسے خریداری کا موقع سمجھ رہے ہیں۔ ماہرین سرمایہ کاری کا مشورہ ہے کہ غیر یقینی معاشی حالات میں جلد بازی کے بجائے محتاط اور سوچ سمجھ کر فیصلے کیے جائیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ کمی نے مارکیٹ میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں ایک طرف خریدار اس کمی کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری جانب تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ صورتحال ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی اشاریے، کرنسی مارکیٹ کی صورتحال اور بین الاقوامی سیاسی حالات اس بات کا تعین کریں گے کہ قیمتی دھاتوں کی قیمتیں مزید نیچے جاتی ہیں یا ایک بار پھر استحکام اور اضافے کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں۔


One Response