اسرائیل کے مغربی کنارے تک توسیعی عزائم پر پاکستان کی شدید مذمت: عالمی قانون اور فلسطینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی

پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے مغربی کنارے تک توسیعی عزائم کی مذمت

اسلام آباد — پاکستان نے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے پر اپنی خودمختاری کے توسیعی عزائم کی شدید مذمت کی ہے۔ دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے مغربی کنارے کے انضمام سے متعلق بل کی ابتدائی منظوری پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس غیر قانونی عمل سے روکے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی اقدامات نہ صرف عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزادی اور انصاف کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

ٹرمپ کا غزہ امن سربراہی اجلاس سے خطاب، معاہدے پر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا شکریہ،شہبازشریف کو خطاب کی دعوت

ٹرمپ کا غزہ امن سربراہی اجلاس سے خطاب ,شہباز شریف کو خصوصی خطاب کی دعوت

شرم الشیخ میں منعقدہ تاریخی غزہ امن معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، السیسی، اردوان، امیر قطر اور وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔
اس معاہدے سے برسوں کی جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن، ترقی اور استحکام کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ “ہم نے جنگ نہیں، امن جیتا ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “صدر ٹرمپ نوبیل امن انعام کے حقیقی مستحق ہیں۔”

گریٹا تھنبرگ سمیت گلوبل صمود امدادی فلوٹیلا کے 171 ارکان ڈی پورٹ

گریٹا تھنبرگ

اسرائیل نے گلوبل صمود امدادی فلوٹیلا کے 171 ارکان، جن میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں، کو ملک بدر کر دیا۔ ان افراد کو یونان اور سلوواکیہ منتقل کیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر فلوٹیلا کو روکا تھا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]