مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیاں: پاکستان سمیت 8 ممالک کی شدید مذمت

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیاں

پاکستان سمیت 8 عرب و اسلامی ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں، اشتعال انگیز اقدامات اور مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

طلال چوہدری: پاکستان آج بھی اسرائیل کے ہدف پر ہے، ملک مخالف بیانیے پر سخت کارروائی ہوگی

وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی پریس کانفرنس

وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان آج بھی اسرائیل کے ہدف پر ہے۔ انہوں نے نورین نیازی کے بیان پر قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے قومی سلامتی کے خلاف بیانیے پر سخت مؤقف اختیار کیا۔

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، صحافی اور بچوں سمیت 11 فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیلی حملے کے بعد تباہ شدہ رہائشی عمارت

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ حملوں میں ایک صحافی، دو بچوں اور ایک ہی خاندان کے چار افراد سمیت کم از کم 11 فلسطینی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ فلسطینی حکام نے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی پر متفق، لبنان میں حملوں سے 47 افراد اور اسرائیلی فوج کے 4 اہلکار ہلاک

اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی پر اتفاق

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا، تاہم جنگ بندی سے قبل لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 47 افراد ہلاک اور 97 زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

امریکا نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود نہ ہوتا، ڈونلڈ ٹرمپ کی امیر قطر سے ملاقات کے دوران گفتگو

ٹرمپ کی امیر قطر سے ملاقات کے دوران گفتگو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اور اسرائیل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود ممکن نہ تھا۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کا امکان، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کل دورہ پاکستان بھی متوقع

امریکا اور ایران کے وفود ممکنہ جنیوا میں مذاکرات

ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان جنیوا میں ملاقات کا امکان ہے، جس میں مذاکرات کو آگے بڑھانے پر بات ہو سکتی ہے۔ تاہم فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور خطے میں کشیدگی اہم رکاوٹ قرار دی جا رہی ہے۔