امریکا نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود نہ ہوتا، ڈونلڈ ٹرمپ کی امیر قطر سے ملاقات کے دوران گفتگو

ٹرمپ کی امیر قطر سے ملاقات کے دوران گفتگو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اور اسرائیل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکا نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود نہ ہوتا، ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو جہنم ڈھا دیں گے،صدر ٹرمپ کی امیر قطر سے ملاقات کے دوران گفتگو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکا کی حمایت نہ ہوتی تو اسرائیل بہت پہلے تباہ ہو چکا ہوتا، جبکہ ایران نے اگر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس پر سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ کامیاب ہونا چاہیے کیونکہ یہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ “میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ اگر ایران نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو ہم اس پر جہنم ڈھا دیں گے۔”

سی آئی اے ایران پر عدم اعتماد امریکی انٹیلی جنس رپورٹ اور وائٹ ہاؤس اجلاس
واشنگٹن میں امریکی انٹیلی جنس اور وائٹ ہاؤس حکام ایران معاہدے پر مشاورت کرتے ہوئے

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ ایک منصفانہ معاہدہ طے پایا ہے اور امریکا ایران میں کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں کر رہا۔

ٹرمپ کی امیر قطر سے ملاقات کے موقع پر انہوں نے اسرائیل کے حوالے سے بھی دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “اگر میں مداخلت نہ کرتا تو اسرائیل بہت پہلے تباہ ہو چکا ہوتا۔ امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود ممکن نہیں تھا۔”

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ قطر نے خطے کی کشیدہ صورتحال میں معاملات کو سنبھالنے میں مثبت کردار ادا کیا ہے اور وہ اس حوالے سے قطری قیادت کی کوششوں سے مطمئن ہیں۔

ٹرمپ کی امیر قطر سے ملاقات کے موقع پر انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی قیادت کو واضح پیغام دیا ہے کہ بیروت پر حملے انہیں پسند نہیں آئے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں اور انہوں نے تجویز دی ہے کہ حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کے حوالے کی جا سکتی ہے۔

ٹرمپ کی امیر قطر سے ملاقات کے موقع پر کہنا تھا کہ لبنان میں جاری کشیدگی کو وہ ایک محدود تنازع سمجھتے ہیں، جبکہ ان کے خیال میں ایران میں اس وقت “معقول قیادت” موجود ہے جو خطے میں استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔

ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور لبنان سے متعلق صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں بھی تیزی سے جاری ہیں۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا مداخلت نہ کرتا تو اسرائیل بہت پہلے تباہ ہو چکا ہوتا اور امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود ممکن نہ تھا۔

سوال: ٹرمپ نے ایران کو کیا وارننگ دی؟

جواب: انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس پر سخت ترین ردعمل دیا جائے گا۔

سوال: ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں ٹرمپ کا مؤقف کیا ہے؟

جواب: ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کامیاب ہونا چاہیے اور یہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

سوال: قطر کے امیر سے ملاقات میں کن امور پر بات ہوئی؟

جواب: ملاقات میں ایران معاہدہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، اسرائیل، لبنان اور علاقائی امن کے معاملات زیر بحث آئے۔

متعلقہ خبریں

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:13 AM
طلوع آفتاب04:57 AM
ظہر12:08 PM
عصر03:53 PM
مغرب07:20 PM
عشاء09:04 PM