غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، صحافی اور بچوں سمیت 11 فلسطینی شہید
غزہ سٹی: جنگ بندی کے اعلانات اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق تازہ حملوں میں کم از کم 11 فلسطینی جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ شہداء میں ایک صحافی، دو کمسن بچیاں اور ایک ہی خاندان کے چار افراد شامل ہیں۔
فلسطینی سول ڈیفنس حکام کے مطابق رات گئے غزہ سٹی کے علاقے الصبرہ میں ایک رہائشی عمارت کو اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ غزہ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں الصفدی خاندان کے چار افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں میاں بیوی اور ان کی دو کمسن بیٹیاں شامل تھیں، جبکہ 12 افراد زخمی ہوئے۔
غزہ کے الشفا اسپتال نے حملے میں دو بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ متاثرہ خاندان کے رشتہ دار نائل الصفدی کے مطابق حملے کے وقت تمام افراد اپنے گھروں میں سو رہے تھے اور ان کا کسی عسکری تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ میزائل حملے کے باعث عمارت کا بڑا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ گھریلو سامان، کپڑے اور دیگر ضروری اشیا ملبے تلے دب گئیں۔ غزہ میں اسرائیلی حملے میں بچ جانے والے محمد الصفدی نے بتایا کہ ان کا خاندان عام شہریوں پر مشتمل تھا اور وہ کسی قسم کی مسلح سرگرمیوں میں شامل نہیں تھے۔
ادھر غزہ سٹی کے شمالی علاقے میں ایک الگ اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک فلسطینی جاں بحق ہوا، جبکہ وسطی غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ہونے والے فضائی حملے میں مزید تین افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی۔
جاں بحق ہونے والوں میں مقامی فلسطینی صحافی احمد وشاح بھی شامل ہیں، جو قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے لیے بطور کیمرہ مین خدمات انجام دے رہے تھے۔ الجزیرہ نے اپنے صحافی کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا آزادی صحافت کے خلاف سنگین اقدام ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ احمد وشاح کا تعلق حماس سے تھا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس دعوے پر سوالات اٹھاتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک غزہ میں مختلف اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1,012 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران اس کے پانچ اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔
بین الاقوامی برادری غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم زمینی صورتحال اب بھی کشیدہ ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ تازہغزہ میں اسرائیلی حملے نے ایک بار پھر خطے میں امن کے امکانات پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے جبکہ انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
Heartbreaking moments as the mother of the journalist Ahmad Washah bids farewell to her son who was killed in an Israeli air strike on the central Gaza strip, yesterday. pic.twitter.com/U7mQ6P8S3d
— Eye on Palestine (@EyeonPalestine) June 21, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: غزہ میں تازہ حملوں میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟
جواب: فلسطینی حکام کے مطابق تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 11 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔
سوال 2: جاں بحق ہونے والوں میں کون شامل ہے؟
جواب: جاں بحق افراد میں ایک صحافی احمد وشاح، دو بچے اور ایک ہی خاندان کے چار افراد شامل ہیں۔
سوال 3: حملے کہاں کیے گئے؟
جواب: حملے غزہ سٹی، الصبرہ، البریج پناہ گزین کیمپ اور دیگر علاقوں میں کیے گئے۔
سوال 4: اسرائیل کا مؤقف کیا ہے؟
جواب: اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض اہداف عسکریت پسندوں سے وابستہ تھے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
سوال 5: جنگ بندی کے باوجود صورتحال کیوں کشیدہ ہے؟
جواب: فریقین ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں جبکہ زمینی سطح پر حملوں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔


