وزیراعظم کی چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت، ترقی کے سفر میں جلد چین کے شانہ بشانہ ہونگے

چین میں تقریب سے خطاب کرتے وزیراعظم شہباز شریف پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم شہباز شریف کی چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت، پاکستان ترقی کے سفر میں جلد چین کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا

چین: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو قرضوں کی نہیں بلکہ مہارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جبکہ زراعت، آئی ٹی، اسپیشل اکنامک زونز اور مائنز اینڈ منرلز کے شعبوں میں چینی کمپنیوں کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

امریکا ایران معاہدہ قریب، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ
ٹرمپ نے ایران معاہدے پر مذاکرات جلد مکمل ہونے کا دعویٰ کردیا

چینی صوبے ہینگ ژو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ترقی کے سفر میں جلد چین کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اربوں ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں جن میں سے تقریباً 30 فیصد ایم او یوز کو باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل بھی کیا جا چکا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف آئندہ 5 سے 7 سال میں چین کے ساتھ زرعی تجارت کو 10 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر عالمی معیار کا اسپیشل اکنامک زون قائم کیا جا رہا ہے جہاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ون ونڈو آپریشن اور ریڈ کارپٹ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ چین ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر کی زرعی اشیا درآمد کرتا ہے جبکہ پاکستان چین کی ضروریات کے مطابق معیاری زرعی مصنوعات فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے علی بابا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں ایگزیکٹو چیئرمین جوسائی نے ان کا استقبال کیا۔ جوسائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں صحت عامہ کے شعبے میں بھی نمایاں کام کیا جا رہا ہے۔ جوسائی نے انسانی وسائل کی ترقی کو مستقبل کیلئے انتہائی اہم قرار دیا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: شہباز شریف نے چین میں کیا کہا؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قرضوں کے بجائے سرمایہ کاری، مہارت اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

سوال 2: کن شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی؟

زراعت، آئی ٹی، اسپیشل اکنامک زونز اور مائنز اینڈ منرلز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی۔

سوال 3: زرعی تجارت سے متعلق کیا ہدف مقرر کیا گیا؟

پاکستان نے آئندہ 5 سے 7 سال میں چین کے ساتھ زرعی تجارت 10 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کا ہدف رکھا ہے۔

سوال 4: کراچی میں کیا منصوبہ بنایا جا رہا ہے؟

کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر عالمی معیار کا اسپیشل اکنامک زون قائم کیا جا رہا ہے۔

سوال 5: وزیراعظم نے کس کمپنی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا؟

وزیراعظم شہباز شریف نے علی بابا کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔

سوال 6: علی بابا کے ایگزیکٹو چیئرمین نے کیا کہا؟

انہوں نے ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو قابل تعریف قرار دیا اور انسانی وسائل کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]