اسرائیلی وزیر دفاع کا دعویٰ: ایران سے جنگ دو دن میں دوبارہ بھڑک سکتی ہے
ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی آئندہ دو دن میں دوبارہ کھلی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر اسرائیل کو اپنی قومی سلامتی کے لیے کسی بھی قسم کا سنگین خطرہ محسوس ہوا تو وہ کسی بیرونی منظوری یا اجازت کا انتظار کیے بغیر کارروائی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر بروقت فوجی اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ مختلف ذرائع کے مطابق خطے میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور ممکنہ مذاکرات کے امکانات پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔
دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں جاری غیر یقینی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو خطہ دوبارہ وسیع پیمانے پر فوجی کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، خام تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب اس بیان پر ایران یا امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
READ MORE FAQS
- اسرائیلی وزیر دفاع نے کیا دعویٰ کیا؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی آئندہ دو دن میں دوبارہ جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
- اسرائیلی وزیر دفاع نے فوجی کارروائی کے بارے میں کیا کہا؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر قومی سلامتی کو خطرہ ہوا تو اسرائیل کسی بیرونی اجازت کا انتظار کیے بغیر کارروائی کرے گا۔
- یہ بیان کس تناظر میں سامنے آیا؟
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
- کیا ایران نے اس بیان پر ردعمل دیا ہے؟
اس خبر کے مطابق ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔








