پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی: آئی ایم ایف قسط کی منظوری کے بعد انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر

آئی ایم ایف کی قسط کی منظوری کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی برقرار ہے، 100 انڈیکس 1006 پوائنٹس بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 70 ہزار 462 پوائنٹس پر پہنچ گیا جبکہ انٹر بینک میں ڈالر 5 پیسے سستا ہوگیا۔
آئی ایم ایف کا پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور، مشکل عالمی حالات کے باوجود مثبت پیش رفت کی تعریف

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد مجموعی ادائیگی 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحاتی ایجنڈے پر مؤثر عملدرآمد دکھایا ہے۔ نئی قسط موسمیاتی ریزیلینس اور اصلاحات میں تیزی کے لیے معاون ہوگی۔
1.2 ارب ڈالر کی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی نئی قسط کی منظوری، آئی ایم ایف کا اجلاس جاری

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری کے لیے آج منعقد ہو رہا ہے۔ اس قسط میں 1 ارب ڈالر توسیعی فنڈ سہولت جبکہ 20 کروڑ ڈالر موسمیاتی و پائیدار ترقی پروگرام کے تحت شامل ہیں۔ قسط سے زرمبادلہ کے ذخائر، مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔
آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے حکومت کا بڑا فیصلہ ایف بی آر نے سول سرونٹس اثاثہ جات رولز میں ترمیم جاری کر دی

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے قبل وفاقی حکومت نے سول سرونٹس اثاثہ جات رولز میں اہم ترمیم جاری کی ہے جس کے تحت “سول سرونٹ” کو “پبلک سرونٹ” سے بدل دیا گیا ہے۔ نئی تعریف گریڈ 17 سے اوپر تمام افسران کو شامل کرتی ہے۔
پاکستان کی بجٹ عملدرآمد اصلاحات: آئی ایم ایف کیلئے نئی تجاویز تیار

بجٹ عملدرآمد اصلاحات کے تحت پاکستان ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی طرف بڑے قدم اٹھانے کو تیار ہے۔
آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر قسط کے اجرا میں حائل رکاوٹ ختم، رپورٹ جلد جاری ہوگی

حکومت نے آئ ایم ایف قسط کے اجرا کے لیے تمام شرائط پوری کر لی ہیں اور گورننس رپورٹ 15 نومبر سے قبل جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے
حکومت اور آئی ایم ایف میں سولر صارفین پر ٹیکس عائد کرنے پر غور

پاکستان میں حکومت اور آئی ایم ایف نے بجلی کے بحران اور ریونیو میں کمی کے باعث سولر صارفین پر ٹیکس سمیت نئی مالی پالیسی پر غور شروع کر دیا ہے۔
پاک افغان سیز فائر طالبان حکومت کی درخواست پرکیا، طویل مدتی امن کیلئے گیند اب کابل کے کورٹ میں ہے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں افغانستان کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان نے 48 گھنٹے کے لیے سیز فائر انسانی ہمدردی کے تحت کیا، مگر اب فیصلہ کابل کو کرنا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے یا تصادم۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی، اور پاکستان اپنے دفاع کا ہر حق محفوظ رکھتا ہے۔ شہباز شریف نے غزہ امن معاہدے، فلسطینی ریاست، اور آئی ایم ایف پروگرام پر بھی اہم گفتگو کی۔
1.2 ارب ڈالر قسط کی راہ ہموار، پاکستان اور آئی ایم ایف معاہدہ اس ہفتے متوقع، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ رواں ہفتے طے پانے کی امید ہے، جس کے بعد 1.2 ارب ڈالر کی قسط کا اجراء ممکن ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات تعمیری ماحول میں ہوئے ہیں جبکہ پی آئی اے نجکاری، بجلی کمپنیوں کی فروخت اور گرین بانڈ اجراء پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستانی معیشت کے لیے اعتماد بحالی کا اشارہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایف بی آر نے گریڈ 17 سے 22 کے افسران کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

ایف بی آر نے گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری افسران کے اثاثے ڈکلیئر کرنے سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس ترمیمی قانون کے تحت تمام وفاقی، صوبائی، خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کے افسران کو اپنے اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے، جس کا مقصد شفافیت اور احتساب کو فروغ دینا ہے۔