پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں انتباہ: افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ قرار

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی پاکستان کی قومی سلامتی، خود مختاری اور خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے اور 2022 سے اب تک افغانستان سے ہونے والے حملوں میں پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کی 1200 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی، حالیہ دہشت گردی کے واقعات، اور پاک–افغان تعلقات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی محسن نقوی سے ملاقات، پاک افغانستان کشیدگی کم کرانے کی پیشکش

تہران میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاک-افغان کشیدگی کم کرانے کے لیے ایران نے تعاون کی پیشکش کی۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی، اور بارڈر مینجمنٹ پر تفصیلی بات چیت کی۔
دوحہ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان جنگ بندی پر متفق

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک ہفتے تک جاری رہنے والی خونریز جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں فوری جنگ بندی طے پا گئی۔ یہ پیش رفت خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک نئی امید بن کر سامنے آئی ہے، تاہم اصل چیلنج اعتماد کی بحالی اور دہشت گرد گروہوں پر قابو پانے کا ہے۔
پاک افغان سیز فائر طالبان حکومت کی درخواست پرکیا، طویل مدتی امن کیلئے گیند اب کابل کے کورٹ میں ہے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں افغانستان کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان نے 48 گھنٹے کے لیے سیز فائر انسانی ہمدردی کے تحت کیا، مگر اب فیصلہ کابل کو کرنا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے یا تصادم۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی، اور پاکستان اپنے دفاع کا ہر حق محفوظ رکھتا ہے۔ شہباز شریف نے غزہ امن معاہدے، فلسطینی ریاست، اور آئی ایم ایف پروگرام پر بھی اہم گفتگو کی۔
بھارت افغانستان میں سفارتخانہ دوبارہ کھولنے جا رہا ہے،بھارتی وزیر خارجہ کی افغان وزیرخارجہ سے ملاقات

بھارت نے تین سال بعد افغانستان میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اعلان کیا کہ کابل میں موجود "تکنیکی مشن” کو اب سفارتخانے کی سطح پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ طالبان کے ساتھ تعلقات میں نئی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد جنوبی ایشیا میں سفارتی توازن میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔
افغانستان میں انٹرنیٹ سروسز معطل – شہری رابطوں پر بڑا اثر

افغانستان بھر میں اچانک بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن سروسز معطل کر دی گئیں۔ نیٹ بلاکس کے مطابق اس وقت صرف 14 فیصد سروسز کام کر رہی ہیں، جس سے شہری رابطے شدید متاثر ہیں۔