بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کا عندیہ، ایسے اتحاد میں شامل ہو سکتے جس میں بھارت کی شمولیت نہ ہو

بنگلہ دیش نے پہلی بار سرکاری سطح پر اعتراف کیا ہے کہ اسٹریٹجک طور پر ڈھاکا کے لیے پاکستان کے ساتھ ایسا علاقائی اتحاد ممکن ہے جس میں بھارت شامل نہ ہو، جب کہ نیپال اور بھوٹان اس طرح کی کسی گروپنگ کا حصہ بن ہی نہیں سکتے۔ بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ محمد توحید حسین کے مطابق پاکستان، چین اور بنگلہ دیش پر مبنی تین ملکی پیش رفت ممکن ہے، جیسا کہ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اسلام آباد میں حالیہ بیان میں اشارہ دیا تھا۔
لاہور حافظ نعیم الرحمٰن کا اجتماع عام سے خطاب پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہو، امریکا کی غلامی نے ملک کو نقصان پہنچایا

لاہور میں جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماع عام ’بدل دو نظام‘ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہونی چاہیے، کیونکہ امریکا کی غلامی نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی موجودہ حالت بھی انہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے فلسطین پالیسی سے انحراف پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ کشمیر یا فلسطین پر کوئی سمجھوتہ قوم قبول نہیں کرے گی۔
امریکا پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے، امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک بنیادوں پر وسعت دینا چاہتا ہے اور اس کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات باہمی مفادات اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں فروغ پا رہے ہیں۔ مارکو روبیو کے مطابق، یہ تعلق کسی ایک واقعے یا شخصیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تدریجی اور مستقل عمل ہے۔
پاک افغان سیز فائر طالبان حکومت کی درخواست پرکیا، طویل مدتی امن کیلئے گیند اب کابل کے کورٹ میں ہے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں افغانستان کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان نے 48 گھنٹے کے لیے سیز فائر انسانی ہمدردی کے تحت کیا، مگر اب فیصلہ کابل کو کرنا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے یا تصادم۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی، اور پاکستان اپنے دفاع کا ہر حق محفوظ رکھتا ہے۔ شہباز شریف نے غزہ امن معاہدے، فلسطینی ریاست، اور آئی ایم ایف پروگرام پر بھی اہم گفتگو کی۔
شہباز شریف اور صدر پیوٹن کی ملاقات اگلے ہفتے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس 2025 کے درمیان طے پا گئی

وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی اگلے ہفتے چین میں ہونے والی ملاقات علاقائی و عالمی سطح پر بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ ملاقات میں توانائی، تجارت، افغانستان اور شنگھائی تعاون تنظیم کے دائرہ کار میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔ ماہرین اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔