بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کا عندیہ، ایسے اتحاد میں شامل ہو سکتے جس میں بھارت کی شمولیت نہ ہو

بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کا عندیہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کی اسٹریٹجک گنجائش کا عندیہ دے دیا، پاکستان کے ساتھ ایسے علاقائی بلاک یا اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے جس میں بھارت کی شمولیت نہ ہو:مشیرِ خارجہ محمد توحید حسین

ڈھاکا (رئیس الاخبار) :— بنگلہ دیش نے پہلی بار کھل کر اس امکان کا اعتراف کیا ہے کہ ڈھاکا مستقبل میں پاکستان کے ساتھ ایسے علاقائی بلاک یا اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے جس میں بھارت کی شمولیت نہ ہو۔ یہ بیان خطے میں بنتی نئی جغرافیائی و سفارتی صف بندیوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش کے سرکاری خبر رساں ادارے بنگلہ دیش سنگ باد سنگستھا (BSS) نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے مشیرِ خارجہ محمد توحید حسین نے کہا ہے کہ:

“ہمارے لیے اسٹریٹجک طور پر یہ ممکن ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ علاقائی سطح پر کسی اتحاد میں شامل ہوں اور اس میں بھارت موجود نہ ہو۔ البتہ نیپال یا بھوٹان کے لیے بھارت کو شامل کیے بغیر پاکستان کے ساتھ کوئی گروپنگ بنانا ممکن نہیں۔”

تجزیہ کاربنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کے بیان کو پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار کے حالیہ بیان کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان، چین اور بنگلہ دیش پر مشتمل ایک ممکنہ تین ملکی سفارتی پیش رفت کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مستقبل میں یہ بلاک علاقائی اور غیر علاقائی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق محمد توحید حسین نے بھی اس امکان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:

“اسحٰق ڈار نے کچھ کہا ہے، اور شاید کسی وقت اس میں کچھ پیش رفت بھی ہو سکتی ہے۔”

پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں انتباہ : افغان دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب کا افغانستان سے دہشت گردی میں اضافے پر بیان۔

سفارتی رابطوں میں تیزی

واضح رہے کہ رواں سال اگست میں وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے 13 سال بعد بنگلہ دیش کا اہم دورہ کیا تھا، جسے دونوں ممالک کے درمیان نئے باب کی شروعات تصور کیا گیا۔
اس کے علاوہ گزشتہ چند ماہ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سے دو باہمی ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں، جنہیں انتہائی خوشگوار اور تعمیری قرار دیا گیا ہے۔

حالات میں تبدیلی کا پس منظر

گزشتہ سال اگست میں عوامی تحریک کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ڈھاکا کی نئی قیادت اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات میں واضح بہتری آئی ہے۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت کی خطے میں بڑھتی عسکری و تجارتی حکمتِ عملی، چین کا بڑھتا ہوا کردار، اور پاکستان و بنگلہ دیش کے درمیان سردمہری کے خاتمے نے ایک نئے ممکنہ خطہ جاتی اتحاد کی بحث کو تقویت دی ہے۔

بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کی پیش رفت جنوبی ایشیا میں نئی جیو پولیٹیکل صف بندیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جو مستقبل میں خطے کے پاور بیلنس پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]