قطر سے پاکستان کیلئے دوسرا ایل این جی جہاز کراچی پہنچ گیا
قطر ایل این جی جہاز کراچی پہنچنے سے پاکستان کی توانائی سپلائی کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ شپنگ ذرائع کے مطابق قطر سے پاکستان کیلئے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے کر آنے والا دوسرا جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد کراچی بندرگاہ پہنچ گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایل این جی جہاز کو آبنائے ہرمز میں عارضی طور پر روکے جانے کے بعد دوبارہ کراچی کی جانب روانہ کیا گیا تھا۔ خطے میں جاری کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث عالمی شپنگ سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں، تاہم اس کے باوجود ایل این جی کی سپلائی پاکستان تک جاری رہی۔
شپنگ ذرائع کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران جنگ کے بعد اب تک مجموعی طور پر تین ایل این جی جہاز کراچی پہنچ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال کے باوجود پاکستان کیلئے توانائی سپلائی برقرار رہنا ایک مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔
قطر پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے والے اہم ترین ممالک میں شامل ہے جبکہ پاکستان کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی گیس پر منحصر ہے۔ ایسے میں آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی صورتحال پاکستان کی توانائی مارکیٹ کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اس بحری راستے کی سیکیورٹی کے حوالے سے عالمی سطح پر خدشات پیدا ہوئے تھے، جس کے باعث متعدد تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں، جس سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ تاہم حالیہ ایل این جی جہاز کی کراچی آمد نے وقتی طور پر پاکستان کی توانائی سپلائی سے متعلق خدشات کم کر دیے ہیں۔
پاکستان میں ایل این جی کی درآمد بجلی کی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں اور گھریلو صارفین کیلئے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ سردیوں اور گرمیوں دونوں موسموں میں گیس کی طلب بڑھنے کے باعث حکومت درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتی ہے تاکہ توانائی بحران سے بچا جا سکے۔
شپنگ ذرائع کے مطابق کراچی پہنچنے والے ایل این جی جہاز سے گیس کی ترسیل جلد قومی گیس سسٹم میں شامل کر دی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں گیس کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کیلئے ایل این جی درآمدات جاری رکھی جائیں گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق خطے میں سیاسی اور عسکری کشیدگی کے باوجود پاکستان کیلئے ایل این جی سپلائی کا جاری رہنا ملکی معیشت اور صنعتی شعبے کیلئے خوش آئند ہے۔ توانائی بحران سے بچاؤ کیلئے بروقت سپلائی نہایت ضروری قرار دی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر عالمی منڈیوں کی نظریں مرکوز رہیں گی کیونکہ اس کا براہ راست اثر توانائی قیمتوں اور سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے

