ٹرمپ کا بڑا بیان، ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہونے کا اشارہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اپنے آخری مراحل میں ہے اور امریکا ایران کو توقع سے زیادہ نقصان پہنچا چکا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹرمپ کو دھوکے باز قرار، مذاکرات کی میز پر بمباری کا الزام

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھوکے باز قرار دیتے ہوئے سفارتی عمل کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا اور ایٹمی مذاکرات پر سخت تنقید کی۔
ایران نے ڈیل نہ کی تو سنگین نتائج ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ناکامی کی صورت میں ایران کے لیے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔
ایران کشیدگی کے دوران امریکا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ

امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا، خطے میں صورتحال مزید نازک ہوگئی۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی، ایران اور امریکا کے ایٹمی مذاکرات پر اتفاق، پاکستان کی شرکت کی تصدیق

ایران اور امریکا نے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات پر اتفاق کر لیا ہے، جو جمعہ کو استنبول میں ہوں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان بھی ان اہم مذاکرات میں شریک ہوگا، جس سے خطے میں امن کی نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔
اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ سے رابطے میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی۔
اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام پر امریکا کی حمایت ختم ہو جائے گی،ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام کی کوشش کی تو امریکا اپنی حمایت ختم کر دے گا۔ ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ “میں نے عرب ممالک سے وعدہ کیا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا۔” ان کے بیان نے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور مشرق وسطیٰ میں نئی سفارتی تبدیلیوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان امریکا کی مشرق وسطیٰ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے مغربی کنارے تک توسیعی عزائم پر پاکستان کی شدید مذمت: عالمی قانون اور فلسطینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی

اسلام آباد — پاکستان نے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے پر اپنی خودمختاری کے توسیعی عزائم کی شدید مذمت کی ہے۔ دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے مغربی کنارے کے انضمام سے متعلق بل کی ابتدائی منظوری پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس غیر قانونی عمل سے روکے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی اقدامات نہ صرف عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزادی اور انصاف کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
اسرائیل کے غزہ میں فضائی حملے، مسلسل بمباری، امداد کا داخلہ روک دیا، 38 فلسطینی شہید

اسرائیلی فوج کے تازہ فضائی حملوں نے غزہ میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
38 فلسطینی شہید، 143 زخمی، رفح کراسنگ بند، اقوام متحدہ کی تشویش —
جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی۔
ٹرمپ کا غزہ امن سربراہی اجلاس سے خطاب، معاہدے پر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا شکریہ،شہبازشریف کو خطاب کی دعوت

شرم الشیخ میں منعقدہ تاریخی غزہ امن معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، السیسی، اردوان، امیر قطر اور وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔
اس معاہدے سے برسوں کی جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن، ترقی اور استحکام کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ “ہم نے جنگ نہیں، امن جیتا ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “صدر ٹرمپ نوبیل امن انعام کے حقیقی مستحق ہیں۔”