ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس موبائل پر حملہ، 3 اہلکار شہید

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں پنیالہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں پولیس موبائل کو دھماکے اور فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں اے ایس آئی، ایک کانسٹیبل اور ڈرائیور سمیت 3 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ ایک کانسٹیبل معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ واقعے کے فوراً بعد ڈی ایس پی پنیالہ اور ایس ایچ او موقع پر پہنچے اور علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشت گرد ہلاک

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنۂ خوارج کے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق باجوڑ، شمالی وزیرستان اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں کی گئی کارروائیوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے اور اسلحہ و بارود برآمد کیا گیا۔ کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
فتنۃ الخوارج کی پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام، 25 دہشتگرد ہلاک، 5 جوان شہید

پاک فوج نے شمالی وزیرستان اور کرم میں دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 25 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں 4 خودکش بمبار بھی شامل تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران پاک فوج کے 5 جوان شہید ہوئے۔ بیان میں بتایا گیا کہ دہشت گرد بھارتی حمایت یافتہ گروہ سے منسلک تھے اور ان کے قبضے سے بھاری اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔
تیراہ میں فضائی بمباری انسانی حقوق کمیشن کی تشویش اور شہریوں کی اموات پر صدمے کا اظہار

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں مبینہ فضائی بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اسے آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سواتی اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی سہیل آفریدی نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ اور ریلیف فراہم کرنے پر زور دیا۔ قومی اسمبلی کے رکن محمد اقبال خان آفریدی نے اسے قبائلی عوام کے ساتھ مسلسل زیادتی قرار دیا۔ ابھی تک وفاقی یا صوبائی حکومت کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں بھی شمالی و جنوبی وزیرستان میں اس نوعیت کے واقعات ہو چکے ہیں، جس سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ عوام نے انصاف کے مطالبے کے لیے احتجاج اور دھرنے کا اعلان کیا ہے۔