طورخم سرحد کی بندش کے سنگین معاشی اثرات—افغانستان کو ایک ماہ میں 45 ملین ڈالر نقصان

طورخم سرحد کی بندش کے دوران کھڑے ٹرک اور متاثرہ تجارتی سرگرمیاں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

طورخم سرحد کی بندش سے افغانستان شدید معاشی نقصان کا شکار

طورخم سرحد کی بندش سے افغانستان شدید معاشی نقصان کا شکار

پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع طورخم بارڈر دونوں ممالک کی تجارت کا سب سے اہم زمینی راستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکتوبر 2025 میں طورخم سرحد کی بندش نے خطے میں نہ صرف سیاسی ہلچل پیدا کی بلکہ افغانستان کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ سرکاری اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق صرف ایک ماہ میں افغانستان کو 45 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جو اس کی کمزور ہوتی ہوئی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔

دوسری طرف پاکستان کے لیے اس بندش کا مقصد ردعمل نہیں بلکہ تجارتی نظام میں اصلاحات لانا تھا، کیونکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر اسمگلنگ پاکستان کے لیے سالانہ اربوں روپے کے نقصان کا سبب بن رہی تھی۔

افغانستان کی معیشت پر یک دم 45 ملین ڈالر کا دھچکہ

پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق طورخم سرحد کی بندش کے پہلے ہی ماہ میں افغانستان کی درآمد و برآمد شدید متاثر ہوئی۔ پاڑڈر کی بندش کے نتیجے میں:

  • روزانہ سیکڑوں کنٹینرز پھنس گئے
  • ٹرانزٹ سامان تاخیر کا شکار ہوا
  • پھل، سبزی اور جلد خراب ہونے والی اشیاء ضائع ہو گئیں
  • افغانستان کی مقامی منڈیاں عدم استحکام کا شکار رہیں

افغانستان کی 70٪ سے زائد تجارت پاکستان کی بندرگاہوں اور روڈ نیٹ ورک پر منحصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارڈر کی بندش نے وہاں کی مارکیٹ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

پاکستان میں عام آدمی پر اثر کیوں نہ پڑا؟

پاکستانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تجارتی بندش کے باوجود عام پاکستانی کی روزمرہ زندگی میں کوئی بڑا فرق سامنے نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ:

  • پاکستان کی زیادہ تر اشیاء مقامی سطح پر تیار ہوتی ہیں
  • افغانستان سے آنے والا زیادہ تر سامان ٹرانزٹ ہوتا ہے
  • اسمگلنگ کی روک تھام سے معاشی بہتری کے امکانات روشن ہوئے

یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس بندش کو تجارتی اصلاحات کی طرف بڑا قدم قرار دیا ہے۔

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلنگ—پاکستان کو سالانہ 3.42 کھرب کا نقصان

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے بڑی تعداد میں اشیاء پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہوتی رہی ہیں، جن میں شامل ہیں:

اے این ایف کی طورخم بارڈر پر منشیات اسمگلنگ ناکام بنانے کی کارروائی
  • الیکٹرانکس
  • کپڑے
  • خشک میوہ جات
  • چینی
  • گاڑیوں کے پرزے
  • سگریٹس اور منشیات

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو ہر سال:

  • 3.42 کھرب روپے کا نقصان اسمگلنگ سے ہوتا تھا
  • ٹرانزٹ ٹریڈ کا تقریباً 1 کھرب روپے کا سامان دوبارہ پاکستان میں اسمگل ہو کر آ جاتا تھا

یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر حکومت نے تجارتی راستوں کو ازسرنو منظم کرنے کا فیصلہ کیا۔

طورخم سرحد کی بندش کیوں ضروری سمجھی گئی؟

پاکستانی سیکورٹی اداروں نے کئی مرتبہ رپورٹ کیا کہ بارڈر سے:

طورخم بارڈر تجارتی گاڑیوں کے لیے تیاریاں
  • غیر قانونی اسلحہ
  • منشیات
  • دہشت گردی کا سامان
  • اسمگل شدہ اشیاء

پاکستان میں داخل ہو رہی تھیں۔

اسی لیے حکومت نے وہ تمام راستے بند کیے جو دہشت گردی اور اسمگلنگ کی سرگرمیوں کا ذریعہ بنتے تھے۔

افغانستان کے متبادل تجارتی راستے—زیادہ خرچ، زیادہ وقت

طورخم بارڈر کی بندش کے بعد افغانستان نے اپنے تجارتی سامان کے لیے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے راستے استعمال کیے، لیکن اعداد و شمار کے مطابق:

  • کراچی سے افغانستان تک سامان 3–4 دن میں پہنچ جاتا تھا
  • ایران کے راستے یہ وقت 6–8 دن ہو جاتا ہے
  • وسط ایشیائی ممالک کے ذریعے سامان 30 دن سے زیادہ میں پہنچتا ہے

اس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات، مین پاور، ریفریجریٹر سسٹم اور فیول کے اخراجات بڑھ گئے، جس نے مجموعی تجارت کو شدید متاثر کیا۔

5000 سے زائد ٹرک بارڈر پر پھنس گئے

ذرائع کے مطابق چند ہفتوں میں:

  • 5000 سے زائد ٹرک بارڈر پر پھنس گئے
  • افغانستان کے پھل اور فصلیں ضائع ہونے لگیں
  • مقامی تاجروں کو لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا
  • افغانستان میں کئی منڈیوں میں اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی

متعدد ٹرکوں کے ڈرائیور وہاں 20 دن سے زیادہ تک پھنسے رہے، جس سے لاجسٹک اخراجات مزید بڑھے۔

طورخم سرحد کی بندش کا افغانستان کی عوام پر اثر

افغان صارفین پر اس بندش کے اثرات کچھ یوں دیکھنے میں آئے:

  • سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ
  • ادویات کی کمی
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قلت
  • ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ
  • تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں 40٪ تک اضافہ

یہ سب کچھ افغانستان کی پہلے سے کمزور معاشی حالت کو مزید بگاڑ گیا۔

افغانستان کا 200 ملین ڈالر سے زائد کا مجموعی نقصان

بارڈر بندش کے چند ہفتوں میں افغان تاجروں نے مجموعی نقصان:

  • 200 ملین ڈالر سے زائد رپورٹ کیا
  • برآمدی اشیاء وقت پر منڈیوں تک نہ پہنچ سکیں
  • درآمدی اشیاء مہنگی ہو گئیں
  • حکومت کے محصولات میں کمی واقع ہوئی

یہ افغانستان کی معاشی تاریخ میں سب سے بڑا بارڈر شاک سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں بارڈر مینجمنٹ اصلاحات—کیا بدلے گا؟

پاکستان نے واضح کیا کہ یہ اقدام افغان حکومت کے خلاف نہیں بلکہ تجارتی نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ آئندہ:

  • بارڈر پر ڈیجیٹل کلیئرنس
  • اسمگلنگ روکنے کے لیے ٹریکنگ سسٹم
  • ایکس رے اسکیننگ
  • ٹرانزٹ کارگو کی مکمل مانیٹرنگ

نافذ کی جائے گی۔

طورخم تجارتی گزرگاہ بندش: 25 ویں روز بھی دوطرفہ تجارت معطل

طورخم سرحد کی بندش نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا تجارتی اور سیکورٹی ڈھانچہ اصلاحات کا متقاضی تھا۔ افغانستان کو ایک ماہ میں 45 ملین ڈالر اور چند ہفتوں میں 200 ملین ڈالر سے زائد نقصان ہوا، جبکہ پاکستان اپنے معاشی اور سیکورٹی مفاد کے تحفظ میں کامیاب رہا۔

یہ بندش خطے کی سیاست، تجارت، سیکورٹی اور مستقبل کی راہداریوں کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس کے مزید اثرات سامنے آئیں گے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]