ٹرمپ نے پاکستان بھارت جنگ روکی بھارت دوبارہ حملہ کرنے والا تھا، امریکی صدر کی تصدیق اور امن کی کوششیں
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا کی 8 بڑی جنگیں روکیں، جن میں ٹرمپ نے پاکستان بھارت جنگ روکی کا واقعہ سرفہرست ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی گفتگو کے دوران ٹرمپ نے واضح کیا کہ بھارت دوبارہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے والا تھا، لیکن ان کی مداخلت سے یہ خطرہ ٹل گیا۔ یہ بیان نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کے لیے اہم ہے بلکہ ٹرمپ کی "تجارت کی بنیاد پر امن” کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، "میں نے ٹرمپ نے پاکستان بھارت جنگ روکی، وہ جنگ جو دوبارہ شروع ہونے والی تھی۔” ان کے مطابق، پاکستان اور بھارت دونوں ممالک اب مثبت اقدامات اٹھا رہے ہیں، جو تجارت اور معاشی تعلقات کی بحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ بیان مئی 2025 میں ہونے والے فوجی تصادم کے تناظر میں سامنے آیا، جب دونوں ملکوں کے درمیان ڈرون اور میزائل حملوں نے صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا تھا۔ ٹرمپ کی مداخلت نے نہ صرف فوری جنگ بندی کا باعث بنا بلکہ طویل مدتی سفارتی روابط کو مضبوط کرنے میں مدد دی۔
ٹرمپ کی مداخلت جنگ روکی کیسے؟
مئی 2025 میں بھارتی کشمیر میں دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی۔ بھارتی فوج نے "آپریشن سندور” کے نام سے پاکستان کے اندر کارروائیاں شروع کر دیں، جبکہ پاکستان نے جوابی کارروائی کی۔ یہ تصادم 4 دن تک جاری رہا، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور نیوکلیئر خطرے کی باتیں شروع ہو گئیں۔ اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ نے فوری طور پر مداخلت کی۔
ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی قیادت سے براہ راست رابطہ کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کو خبردار کیا کہ اگر لڑائی جاری رہی تو امریکہ 250% ٹیرف عائد کر دے گا اور تمام تجارتی معاہدے منسوخ کر دے گا۔ یہ دھمکی کام آ گئی۔ ٹرمپ نے کہا، "ٹرمپ نے پاکستان بھارت جنگ روکی تجارت کی طاقت سے، کیونکہ دونوں ممالک کو معاشی نقصان برداشت نہ تھا۔” بھارت نے ابتدائی طور پر انکار کیا کہ کوئی بیرونی مداخلت ہوئی، لیکن بعد میں دونوں فوجی ڈائریکٹرز جنرل آف ملٹری آپریشنز (DGMO) کے درمیان براہ راست بات چیت سے جنگ بندی ہوئی۔
ٹرمپ کی یہ حکمت عملی ان کی پالیسی "امریکہ فرسٹ” کا حصہ تھی، جہاں سفارت کاری کو معاشی دباؤ سے جوڑا گیا۔ نتیجتاً، پاکستان نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا، جبکہ بھارت نے خاموشی اختیار کی۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ٹرمپ نے پاکستان بھارت جنگ روکی ایک ایسی مثال ہے جو عالمی سطح پر سفارتی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
سعودی ولی عہد کے ساتھ ملاقات: جنگیں روکنے کا فخر
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وائٹ ہاؤس دورے کے دوران ٹرمپ نے اپنی کامیابیوں کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا، "میں دنیا میں 8 بڑی جنگیں روکنے پر فخر کرتا ہوں، جن میں ٹرمپ نے پاکستان بھارت جنگ روکی شامل ہے۔” محمد بن سلمان کو اپنا "طویل مدتی دوست” قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے سعودی عرب کی علاقائی امن میں کردار کی تعریف کی۔ یہ ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے والی تھی بلکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان روابط کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ کو "ناکام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیوں نے جنگیں بڑھائیں، جبکہ انہوں نے انہیں روکا۔ ٹرمپ نے پاکستان بھارت جنگ روکی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ تجارت ہی امن کی کلید ہے، جو اب پاکستان اور بھارت کے درمیان نئی تجارتی معاہدوں کی بنیاد بن رہا ہے۔
روس یوکرین جنگ جلد ختم ہونے کی امید
ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا، "مجھے اندازہ نہ تھا کہ یہ جنگ اتنی طویل ہو جائے گی، لیکن میں اسے جلد ختم کرنے کی امید رکھتا ہوں۔” ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے روس کو "ڈیل” کرنے کی دعوت دی، جہاں لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ یہ بیان یورپی امن کے لیے اہم ہے، کیونکہ ٹرمپ نے پہلے ہی کئی عالمی تنازعات میں مداخلت کی ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان بھارت جنگ روکی کی طرح، روس یوکرین تنازعہ میں بھی تجارت اور دباؤ کی حکمت عملی استعمال کی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے سعودی عرب دفاعی پیکیج منظور کرلیا—ایف 35 طیاروں اور جدید ٹینکس کی فراہمی
ایران نیوکلیئر ڈیل نئی بات چیت کا آغاز
صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات کی۔ انہوں نے کہا، "ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، میں تیار ہوں اور بات چیت شروع ہو چکی ہے۔” یہ بیان جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے اہم ہے، کیونکہ ٹرمپ کی پچھلی پالیسیوں نے ایران کو تنہا کیا تھا۔ اب، ٹرمپ نے پاکستان بھارت جنگ روکی والی سفارتی کامیابی کی روشنی میں، ایران ڈیل نئی امید کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹرمپ کی یہ کوششیں عالمی امن کی طرف قدم ہیں، جہاں تجارت اور دباؤ سفارت کاری کے ہتھیار بن رہے ہیں۔ ٹرمپ نے پاکستان بھارت جنگ روکی نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے سبق ہے۔
2 Responses