350 فیصد ٹیرف کی دھمکی سے پاک بھارت جنگ رکی، ٹرمپ کا دعویٰ شہباز شریف کا فون کہا کہ لاکھوں جانیں بچائیں
اسلام آباد (رئیس الاخبار) :— امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی کی فوجی کشیدگی ان کی جانب سے دونوں ممالک پر ’’350 فیصد ٹیرف‘‘ عائد کرنے کی دھمکی کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں فون پر بتایا کہ ’’آپ نے لاکھوں جانیں بچائیں‘‘۔
امریکی–سعودی سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ تنازعات حل کرنے میں ہمیشہ کامیاب رہے ہیں، اور اسی قابلیت کے باعث واشنگٹن نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان مئی میں کشیدگی کے خاتمے میں مرکزی کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوا۔
"بھارت، پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ جنگ کرنے والے تھے” — ٹرمپ
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ:
’’بھارت اور پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، آپ لڑ سکتے ہیں، لیکن میں دونوں ممالک پر 350 فیصد ٹیرف لگا دوں گا، امریکا کے ساتھ کوئی تجارت نہیں ہوگی۔‘‘
ٹرمپ نے بھارتی اور پاکستانی ردِعمل کی نقل اتارتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے فوراً مخالفت کی اور یہی دباؤ جنگ بندی کی وجہ بنا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نریندر مودی نے بھی انہیں ٹیلی فون کیا اور کہا کہ ’’ہم جنگ نہیں کریں گے‘‘ جس پر انہوں نے جواب دیا ’’بہت شکریہ، آئیے ایک معاہدہ کرتے ہیں‘‘۔
"شہباز شریف نے کہا آپ نے لاکھوں جانیں بچائیں” — ٹرمپ کا دعویٰ شہباز شریف کا فون
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں ٹیلی فون پر بتایا کہ:
’’آپ نے لاکھوں جانیں بچائیں، آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ آپ نے کتنا بڑا کام کیا ہے۔‘‘
ٹرمپ کا دعویٰ شہباز شریف کا فون پر یہ بات ان کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کے سامنے کہی گئی۔
کشیدگی کیسے بڑھی؟
سال کے آغاز میں مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں، جن میں متعدد عسکری واقعات سامنے آئے۔
بحران مئی میں اس وقت کم ہوا جب ٹرمپ نے جنگ بندی کی کوششوں کا اعلان کیا، جس کا وہ متعدد بار کریڈٹ لیتے رہے ہیں۔
"میں نے آٹھ جنگیں ختم کی ہیں” — ٹرمپ
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے ’’آٹھ جنگیں‘‘ ختم کرائیں، جن میں سے پانچ صرف ٹیرف کی دھمکیوں کے ذریعے حل ہوئیں۔
انہوں نے غزہ کے لیے امن منصوبے، سوڈان کے معاملے اور یوکرین–روس جنگ پر بھی بات کی۔

پیوٹن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ:
’’میں صدر پیوٹن سے مایوس ہوں، میں نے سوچا تھا یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا۔‘‘
بھارت کی جانب سے ٹرمپ کے دعووں پر اختلاف
بھارت اس سے قبل بھی ٹرمپ کے بیانات کی تردید کر چکا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ پاک بھارت کشیدگی جنگ بندی تک کسی امریکی تجارتی دھمکی کے نتیجے میں نہیں بلکہ علاقائی و سفارتی عوامل کی بنیاد پر پہنچی۔
ٹرمپ کا دعویٰ شہباز شریف کا فون اس سے پہلے بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ بحران کے دوران ’’5 سے 8 طیارے‘‘ مار گرائے گئے تھے اور وہ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف بھی کر چکے ہیں۔
U.S. President Trump claimed he prevented a nuclear conflict between India and Pakistan by warning both countries that he would impose a 350 percent tariff and halt all trade.
He said the pressure pushed them toward a ceasefire, adding that without it there would have been… pic.twitter.com/wBI4KbyAJ9
— Islamabad Insider (@IslooInsider) November 20, 2025