متحدہ عرب امارات میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

متحدہ عرب امارات میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پر پٹرول پمپ کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

یو اے ای میں ایندھن کا بحران: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

متحدہ عرب امارات (UAE) میں مقیم شہریوں اور کاروباری حلقوں کے لیے اپریل کا مہینہ ایک بڑا معاشی جھٹکا لے کر آیا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری شدید جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھا دی گئی ہیں۔ اس اضافے نے جہاں عام آدمی کی جیب پر بوجھ ڈالا ہے، وہی لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبوں میں بھی کھلبلی مچا دی ہے۔

قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور حالیہ اعداد و شمار

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اپریل 2026 کے لیے جاری کردہ نئے نرخ نامے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک زیادہ ہیں۔ سب سے زیادہ اضافہ ڈیزل کی قیمت میں دیکھا گیا ہے جو کہ تقریباً 70 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام نے ڈیزل کی قیمت کو 2.72 درہم سے بڑھا کر اپریل کے لیے 4.69 درہم فی لیٹر کر دیا ہے، جو کہ ماہانہ بنیادوں پر 72.4 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہے۔

پٹرول کے مختلف گریڈز پر اثرات

صرف ڈیزل ہی نہیں بلکہ سپر 98، اسپیشل 95 اور ای پلس کے صارفین بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے متاثر ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق:

  • سپر 98: 2.59 درہم سے بڑھ کر 3.39 درہم ہو گیا (30.9 فیصد اضافہ)۔
  • اسپیشل 95: بڑھ کر 3.28 درہم فی لیٹر تک پہنچ گیا (32.3 فیصد اضافہ)۔
  • ای پلس 91: کی قیمت 3.20 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی ہے (33.3 فیصد اضافہ)۔

جغرافیائی سیاسی تناؤ اور عالمی مارکیٹ

ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی بنیادی وجہ خطے میں جاری ایران جنگ اور سپلائی چین میں آنے والے تعطل ہیں۔ تاریخی طور پر امارات میں ایندھن کے نرخ 2025 اور 2026 کے اوائل تک کافی مستحکم رہے تھے، لیکن موجودہ جنگی صورتحال نے عالمی توانائی کی مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جب تک عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے آنے کے امکانات کم ہیں۔

معیشت اور مہنگائی پر اثرات

ڈیزل کی قیمتوں میں اس قدر اچانک اور بڑا اضافہ براہ راست مال برداری اور نقل و حمل کی لاگت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ جب ٹرانسپورٹیشن مہنگی ہوتی ہے تو اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں یو اے ای میں افراط زر (مہنگائی) کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر بھی اپنی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

مستقبل کی صورتحال

متحدہ عرب امارات کی حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مقامی سطح پر ریلیف دینا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ ایندھن کے استعمال میں احتیاط برتیں کیونکہ آنے والے مہینوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید اتار چڑھاؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔

پیٹرول 5 روپے اور ڈیزل 7.32 روپے مہنگا، پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

مختصراً یہ کہ یو اے ای میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس وقت اپنے تاریخی عروج پر ہیں، اور اس کا اثر براہ راست ہر شعبہ ہائے زندگی پر پڑ رہا ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کے لیے یہ معاشی استحکام برقرار رکھنے کا ایک کٹھن امتحان ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]