واشنگٹن بورڈ آف پیس اجلاس میں شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں

واشنگٹن بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف عالمی رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

واشنگٹن بورڈ آف پیس اجلاس: وزیر اعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں

وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے واشنگٹن میں منعقدہ غزہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں کر کے پاکستان کی فعال اور متحرک سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ یہ ملاقاتیں نہ صرف سفارتی سطح پر اہمیت کی حامل تھیں بلکہ انہوں نے عالمی برادری میں پاکستان کے مؤثر کردار کو بھی اجاگر کیا۔ وزیرِ اعظم کی ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی استحکام، عالمی امن، اقتصادی تعاون اور غزہ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے سب سے پہلے بحرین کے فرمانروا شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بحرین کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم نے بحرین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس موقع پر دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کے فروغ پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔

بعد ازاں وزیرِ اعظم کی ملاقات آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد پر مبنی شراکت داری پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے مختلف عالمی فورمز پر آذربائیجان کی جانب سے پاکستان کی مستقل حمایت کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی، تجارت اور علاقائی روابط کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے دوران خوشگوار ماحول دیکھنے میں آیا اور رہنماؤں کے درمیان غیر رسمی انداز میں تبادلۂ خیال نے دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کی۔

وزیرِ اعظم نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے بھی غیر رسمی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وسطی ایشیائی خطے میں روابط کے فروغ، تجارتی راہداریوں اور علاقائی انضمام کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے ایک قدرتی گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ٹرانسپورٹ، توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف سے ملاقات میں بھی باہمی دلچسپی کے امور زیرِ بحث آئے۔ وزیرِ اعظم نے قازقستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر زرعی تعاون، معدنی وسائل، علاقائی روابط اور کثیرالجہتی فورمز پر اشتراکِ عمل پر بھی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

اسی طرح وزیرِ اعظم نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز، اقتصادی تعاون اور دفاعی شعبے میں اشتراکِ عمل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات موجود ہیں جنہیں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ دونوں رہنماؤں نے او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ان تمام ملاقاتوں کے دوران ایک خوشگوار اور دوستانہ فضا نمایاں رہی۔ رہنماؤں کے درمیان مسکراہٹوں، مصافحوں اور غیر رسمی گفتگو نے اس امر کی عکاسی کی کہ عالمی سطح پر سفارتی روابط صرف رسمی اجلاسوں تک محدود نہیں بلکہ باہمی اعتماد اور ذاتی تعلقات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے ہر رہنما کے ساتھ مختصر مگر بامعنی گفتگو میں پاکستان کا مؤقف واضح کیا اور عالمی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد غزہ کی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن اور انسانی امداد کے اقدامات پر عالمی سطح پر مشاورت کو فروغ دینا ہے۔ وزیرِ اعظم کی اس سطح کی شرکت پاکستان کے اس مؤقف کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عالمی امن، مکالمے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مسائل کے حل کا حامی ہے۔

وزیرِ اعظم کی واشنگٹن میں موجودگی اور مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں پاکستان کی متوازن اور فعال خارجہ پالیسی کی عکاس ہیں۔ انہوں نے ہر ملاقات میں پاکستان کے اقتصادی امکانات، سرمایہ کاری کے مواقع اور علاقائی روابط کے فروغ پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

ان غیر رسمی ملاقاتوں نے جہاں ایک طرف سفارتی روابط کو مزید مضبوط کیا، وہیں دوسری جانب عالمی سطح پر پاکستان کی موجودگی اور مؤثر سفارتکاری کو بھی نمایاں کیا۔ واشنگٹن میں ہونے والی یہ سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان عالمی معاملات میں فعال شرکت کے ذریعے اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور عالمی امن کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]