وزیراعظم شہباز شریف کا روس کا دورہ منسوخ، ایران کی صورتحال پر اہم اجلاس طلب
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر شہباز شریف نے اپنا اہم دورہ روس منسوخ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ آئندہ چند دنوں میں متوقع تھا جس میں وہ اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ روس کے دارالحکومت ماسکو جانا تھے، تاہم خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث اس دورے کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے روسی حکام کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ ایران پر ہونے والے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی حساس اور غیر یقینی صورتحال میں وزیراعظم کا دورہ ممکن نہیں رہا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان توانائی، تجارت اور علاقائی تعاون سے متعلق اہم معاملات پر بات چیت ہونا تھی، تاہم موجودہ حالات میں حکومت کی تمام توجہ خطے کی سکیورٹی صورتحال اور سفارتی حکمت عملی پر مرکوز ہو گئی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ملکی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت، انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور متعلقہ حکام شرکت کریں گے تاکہ موجودہ حالات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
اجلاس میں خاص طور پر ایران، افغانستان اور دیگر علاقائی ممالک کی سکیورٹی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ حالیہ واقعات کے بعد خطے میں ممکنہ کشیدگی کس حد تک بڑھ سکتی ہے اور اس کا پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں پاکستان کی آئندہ کی سفارتی اور سکیورٹی پالیسی کے خدوخال طے کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کی خبر کے بعد پورے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی قیادت کا فوری اجلاس طلب کرنا اور دورہ روس منسوخ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی سلامتی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ایک اور اہم معاملہ بھی زیر غور آئے گا، جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں پاکستان کی نمائندگی کس سطح پر کی جائے گی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی سرکاری وفد ایران بھیجا جائے گا تاکہ پاکستان کی جانب سے اظہارِ تعزیت اور یکجہتی کا پیغام دیا جا سکے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک مختلف علاقائی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں ایران میں پیش آنے والے اس اہم واقعے پر پاکستان کی جانب سے ردعمل اور سفارتی سرگرمیوں کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کی قیادت کی جانب سے فوری اقدامات اور مشاورت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں پاکستان اپنی سرکاری پالیسی اور مؤقف کے حوالے سے واضح گائیڈ لائنز بھی جاری کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ ادارے مسلسل رابطے میں ہیں اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس صورتحال میں پاکستان کو انتہائی محتاط اور متوازن سفارتی پالیسی اپنانا ہوگی تاکہ نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے بلکہ پاکستان کے قومی مفادات کا بھی بھرپور تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران میں ہونے والے حالیہ واقعات نے عالمی سیاست اور علاقائی سکیورٹی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا روس کا دورہ منسوخ کرنا اور فوری طور پر اہم اجلاس طلب کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کی قیادت حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کرنے کے لیے تیار ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ پاکستان اس صورتحال میں کس نوعیت کی سفارتی اور سکیورٹی حکمت عملی اختیار کرتا ہے اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات پر کس طرح اپنا مؤقف سامنے لاتا ہے۔

