وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب جاندار، لیاقت بلوچ کا بیان

وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب جاندار قرار، نائب امیر جماعت اسلامی

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب نہایت جاندار اور مؤثر تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک ہی وقت میں فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو عالمی فورم پر اجاگر کر کے امت مسلمہ کی امنگوں کی ترجمانی کی۔

لیاقت بلوچ کا بیان اور عالمی پس منظر

اپنے بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کی ترجمانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی یہ پوزیشن خوش آئند ہے، کیونکہ فلسطین اور کشمیر دونوں ایسے مسائل ہیں جنہیں دہائیوں سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور عالم اسلام کا اتحاد

لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ اس معاہدے کو صرف دو ممالک تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عالم اسلام کے وسیع اتحاد کی بنیاد بنایا جائے۔ ان کے مطابق، جس طرح وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب نے فلسطین اور کشمیر کے مسائل پر روشنی ڈالی، اسی طرح اسلامی دنیا کو بھی اتحاد کے ذریعے اپنی سمت طے کرنی ہوگی۔

فلسطین اور کشمیر پر واضح موقف

لیاقت بلوچ نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کی آزادی کے لیے اتحادِ امت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو ان دونوں تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب اس حوالے سے پاکستان کی مستقل پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

سیلاب متاثرین اور حکومتی ذمہ داریاں

لیاقت بلوچ نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان اب بھی حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی بحالی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق، جیسے وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب نے عالمی سطح پر اہم مسائل کو اجاگر کیا، ویسے ہی اندرونِ ملک عوامی مسائل پر بھی توجہ دینا لازمی ہے۔

بلدیاتی نظام اور صوبائی مسائل

اپنے بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ پنجاب اب بھی بلدیاتی انتخابات سے محروم ہے جبکہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام بے اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی کو مضبوط کیے بغیر جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ اس نکتے کو بھی وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر مؤقف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر اصلاحات بھی ضروری ہیں۔

توانائی بحران اور معاشی مشکلات

لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر آئی پی پیز اور چینی کمپنیوں کے ساتھ مسائل حل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سستی بجلی اور سستا تیل ہی ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کا واحد راستہ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے زور دیا کہ جس طرح وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب نے عالمی سطح پر اہمیت حاصل کی، اسی طرح ملکی معاشی مسائل کے حل کے لیے بھی جاندار اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔

عالمی دنیا کو پیغام

وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب نہ صرف پاکستان کے لیے اہم تھا بلکہ اس نے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان امن، انصاف اور انسانی حقوق کی پاسداری چاہتا ہے۔ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کو حل کیے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

شہباز شریف اقوام متحدہ جنرل اسمبلی خطاب: پاکستان کی امن و مذاکرات کی پیشکش

جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب پاکستان کے عالمی کردار کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالم اسلام کے اتحاد کے لیے قیادت کرے، اندرونی مسائل کے حل پر توجہ دے اور معاشی پالیسیوں میں اصلاحات لائے تاکہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان دنیا کے سامنے پیش ہو سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]