دنیا کا سب سے موٹا شخص جوآن پیڈرو فرانکو 41 برس کی عمر میں زندگی کی بازی ہار گیا
دنیا بھر میں اپنی جسمانی ساخت اور غیر معمولی وزن کی وجہ سے شہرت پانے والا دنیا کا سب سے موٹا شخص اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ میکسیکو سے تعلق رکھنے والے جوآن پیڈرو فرانکو، جن کا نام گینز ورلڈ ریکارڈ میں شامل تھا، گردوں کے شدید انفیکشن کے باعث 41 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
جوآن پیڈرو فرانکو کی زندگی اور ریکارڈ
جوآن پیڈرو فرانکو کو 2017 میں باضابطہ طور پر دنیا کا سب سے موٹا شخص قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت ان کا وزن تقریباً 1,322 پاؤنڈ (تقریباً 595 کلوگرام) ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اتنے زیادہ وزن کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک بستر تک محدود رہے اور ان کی نقل و حرکت مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔
بیماری اور وفات کی وجوہات
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، دنیا کا سب سے موٹا شخص گزشتہ کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھا۔ انہیں گردوں میں شدید انفیکشن (Kidney Infection) کی شکایت تھی، جو ان کی موت کی بنیادی وجہ بنی۔ ڈاکٹروں کی انتھک کوششوں کے باوجود ان کی حالت دن بدن بگڑتی گئی اور آخر کار وہ جانبر نہ ہو سکے۔
وزن کم کرنے کی کوششیں
اپنی زندگی کے آخری سالوں میں، دنیا کا سب سے موٹا شخص بننے کا اعزاز رکھنے والے جوآن نے وزن کم کرنے کے لیے کئی سرجریز بھی کروائی تھیں۔ اگرچہ ان سرجریز سے ان کے وزن میں کچھ کمی واقع ہوئی تھی، لیکن ان کے جسم پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات اور اندرونی اعضاء کی کمزوری نے انہیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔
موٹاپا اور صحت کے خطرات
طبی ماہرین کے مطابق، جوآن پیڈرو فرانکو یعنی دنیا کا سب سے موٹا شخص کی موت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شدید موٹاپا انسانی اعضاء، خاص طور پر گردوں اور دل کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی موت پر دنیا بھر میں دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے، خاص طور پر میکسیکو میں جہاں وہ ایک معروف شخصیت بن چکے تھے۔
میکسیکو میں چوکور انسانی کھوپڑی دریافت، قدیم رسومات پر حیران کن انکشاف
One Response