یاسمین راشد کا بڑا فیصلہ — ٹریبونل فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری
ڈاکٹر یاسمین راشد نے حالیہ عدالتی پیش رفت کے بعد اپنی آئندہ قانونی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے جیل میں موجودگی کے دوران اپنی قانونی ٹیم سے تفصیلی اور مکمل مشاورت کی، جس میں لاہور کے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس مشاورت کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ٹریبونل کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں اور قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے وکیل، معروف قانون دان رانا مدثر عمر کو واضح اور دوٹوک ہدایات جاری کی ہیں کہ لاہور کے الیکشن ٹریبونل کی جانب سے این اے 130 سے متعلق سنائے گئے فیصلے کو فوری طور پر عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا جائے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس میں قانونی نکات کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے، جس کے باعث ان کی الیکشن پٹیشن کو محض تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دیا گیا۔
رانا مدثر عمر نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے انہیں ہدایت دی ہے کہ کسی بھی تاخیر کے بغیر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کو چیلنج کرنا نہ صرف ان کا قانونی حق ہے بلکہ یہ جمہوری عمل کے شفاف تسلسل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ وکیل کے مطابق این اے 130 کے انتخابی نتائج سے متعلق کئی اہم سوالات ایسے ہیں جن پر باقاعدہ سماعت ہونی چاہیے تھی، مگر بدقسمتی سے ٹریبونل نے ان نکات پر غور کیے بغیر فیصلہ صادر کر دیا۔
رانا مدثر عمر نے مزید بتایا کہ الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کی مصدقہ کاپی حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر درخواست دے دی گئی ہے۔ جیسے ہی یہ مصدقہ کاپی موصول ہوگی، متعلقہ عدالت میں آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق پٹیشن دائر کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ عدالت سے رجوع کرے گی اور ہر فورم پر ڈاکٹر یاسمین راشد کے مؤقف کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ الیکشن ٹریبونل نے کیس کے حقائق کا درست اور غیر جانبدارانہ جائزہ نہیں لیا۔ ان کے مطابق پٹیشن میں اٹھائے گئے بنیادی نکات، شواہد اور قانونی دلائل کو سنجیدگی سے نہیں سنا گیا، جس کے نتیجے میں انصاف کے تقاضے پورے نہ ہو سکے۔ وکیل نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابی تنازعات میں تکنیکی اعتراضات کے بجائے عوامی مینڈیٹ اور شفافیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
واضح رہے کہ لاہور کے الیکشن ٹریبونل نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف دائر کی گئی الیکشن پٹیشن کو ناقابلِ سماعت قرار دے دیا تھا۔ ٹریبونل کے اس فیصلے نے سیاسی اور قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں مختلف ماہرین قانون اس فیصلے کے قانونی جواز پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ کئی حلقوں کا خیال ہے کہ ایسے حساس سیاسی اور انتخابی معاملات میں تفصیلی سماعت اور شواہد کا جائزہ لینا عدالتی ذمہ داری کا اہم حصہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد، جو ماضی میں بھی مختلف سیاسی اور قانونی معرکوں میں سرگرم رہی ہیں، اس فیصلے کو اپنی سیاسی جدوجہد کے خلاف ایک رکاوٹ سمجھتی ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کریں گی۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ اس معاملے کو صرف ذاتی نہیں بلکہ عوامی حقِ رائے دہی سے جوڑ کر دیکھتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ اس کیس کا فیصلہ مستقبل کی انتخابی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ معاملہ اعلیٰ عدالت میں جاتا ہے تو وہاں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ آیا الیکشن ٹریبونل نے درست قانونی اصولوں پر فیصلہ دیا یا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا پٹیشن کو ناقابلِ سماعت قرار دینے کی وجوہات آئینی و قانونی معیار پر پوری اترتی ہیں یا نہیں۔ یہ کیس نہ صرف فریقین بلکہ مجموعی انتخابی نظام کے لیے بھی ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔
آخر میں، ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے ٹریبونل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ قانونی جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ان کی قانونی ٹیم پرعزم دکھائی دیتی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کیس سے متعلق مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔ سیاسی مبصرین اور عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ اعلیٰ عدالت اس معاملے میں کیا فیصلہ سناتی ہے اور یہ قانونی جنگ کس سمت جاتی ہے۔

