یمن کے خصوصی فوجداری عدالت کا حکم موساد سے رابطے اور حملوں میں سہولت کاری کے جاسوسی کے الزام میں 17 افراد کو سرعام پھانسی
یمن میں حوثی حکومت نے ایک انتہائی سخت قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کے لیے جاسوسی کے الزام میں 17 افراد کو سزائے موت دے دی ہے۔ یمن کے دارالحکومت صنعا میں قائم ایک خصوصی فوجداری عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے کیا گیا۔ یہ فیصلہ خطے میں جاری کشیدگی اور اسرائیل-حوثی تنازعے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
خصوصی فوجداری عدالت کا فیصلہ
حوثی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ صنعا کی خصوصی فوجداری عدالت نے ان 17 افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔ ان افراد پر امریکا، اسرائیل اور سعودی خفیہ اداروں سے منسلک جاسوسی کے نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا جاسوسی کے الزام قائم کیے گئے تھے۔
یمن کے سرکاری خبر رساں اداروں نے تصدیق کی کہ عدالت نے 17 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی اور سرعام اس پر عمل درآمد کا حکم دیا۔ متعدد افراد کے نام بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ عدالت میں مجموعی طور پر 20 افراد پر ٹرائل چلایا گیا، جس میں:
- 17 افراد: کو سزائے موت دی گئی۔
- 2 افراد: ایک خاتون اور ایک مرد کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
- 1 شخص: کو الزامات سے بری کر دیا گیا۔
اسرائیل اور اتحادیوں کے لیے جاسوسی کے الزام
مقامی میڈیا کے مطابق، پراسیکیوٹر نے عدالت میں الزام عائد کیا تھا کہ یمن میں موجود یہ افراد نے 2024 اور 2025 کے دوران دوسرے ممالک، جن میں برطانیہ بھی شامل ہے، کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد (Mossad) کے انٹیلیجنس افسران ان یمنی شہریوں کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر ہی یمن کے متعدد عسکری، سیکیورٹی اور شہری مقامات پر حملے کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں درجنوں شہری شہید ہوئے اور کئی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ جاسوسی کے الزام کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، حوثی حکام نے سخت ترین سزا کو نافذ کیا۔
غزہ جنگ اور یمن کی فضائی کارروائیاں
یہ پھانسیاں ایک ایسے وقت میں دی گئی ہیں جب یمن کے حوثی اور اسرائیل کے درمیان اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے شدید کشیدگی جاری ہے۔
- امریکی اور برطانوی حملے: امریکا اور برطانیہ نے غزہ جنگ کے آغاز کے بعد یمن کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے، جن میں کئی شہری مارے گئے۔ یہ حملے بحیرہ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔
- حوثیوں کی یکجہتی: حوثیوں نے فلسطینیوں سے یکجہتی کے طور پر اسرائیل اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی بحری راستوں پر حملے کیے تھے۔
یمنی چیف آف اسٹاف عبدالکریم الغماری اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک، حوثیوں کی تصدیق
تاہم، یمن کے حوثیون نے گزشتہ ماہ ہونے والی غزہ جنگ بندی کے بعد ان حملوں کو روک دیا ہے۔ جاسوسی کے الزام میں دی گئی یہ پھانسیاں ایک پیغام ہیں کہ حوثی حکومت بیرونی مداخلت اور خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے خلاف سخت گیر موقف رکھے گی۔