زلزلہ پاکستان اسلام آباد راولپنڈی پشاور میں جھٹکے

زلزلہ پاکستان اسلام آباد راولپنڈی پشاور میں جھٹکے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

زلزلہ پاکستان: اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں جھٹکے محسوس

اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں آنے والے زلزلے نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، تاہم خوش قسمتی سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز اچانک زمین لرزنے سے لوگ گھروں، دفاتر اور مارکیٹوں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے جھٹکے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ جڑواں شہر راولپنڈی اور خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واضح طور پر محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں شدید بے چینی دیکھی گئی۔

زلزلے کے جھٹکے نہ صرف بڑے شہروں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ اور اس کے گردونواح میں بھی زمین لرزنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جہاں لوگ احتیاطاً گھروں سے باہر نکل آئے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے ضلع دیامر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کے اہم ضلع صوابی میں بھی شہریوں نے زلزلے کے جھٹکوں کی تصدیق کی، جہاں کئی مقامات پر لوگوں نے کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا اور مساجد میں دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.6 ریکارڈ کی گئی، جو درمیانے درجے کا زلزلہ تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی گہرائی 114 کلومیٹر تھی، جس کی وجہ سے زلزلے کے جھٹکے وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے لیکن زیادہ نقصان کا خطرہ نسبتاً کم رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب زلزلہ زمین کے اندر زیادہ گہرائی میں آتا ہے تو اس کے اثرات دور تک محسوس ہوتے ہیں مگر سطح پر تباہی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

محکمہ موسمیات اور زلزلہ پیما اداروں کے مطابق اس زلزلے کا مرکز افغانستان کے پہاڑی سلسلے ہندوکش ریجن میں واقع تھا، جو زلزلوں کے حوالے سے ایک فعال خطہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق اس علاقے میں ٹیکٹونک پلیٹس کی حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں اور پاکستان کے شمالی اور وسطی علاقوں میں بھی ان کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین نے بتایا کہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ کئی دہائیوں سے زلزلہ خیز خطہ رہا ہے اور یہاں آنے والے زلزلے اکثر پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

زلزلے کے فوراً بعد ریسکیو ادارے اور ضلعی انتظامیہ الرٹ ہو گئی۔ مختلف شہروں میں ایمرجنسی سروسز کو ہدایت کی گئی کہ وہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ٹیموں نے حساس علاقوں میں گشت شروع کر دیا اور عمارتوں کا جائزہ لینے کا عمل بھی شروع کیا گیا تاکہ کسی ممکنہ نقصان کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ زلزلہ اچانک آیا جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف پھیل گیا۔ کئی مقامات پر لوگ گھروں سے باہر کھلے میدانوں اور سڑکوں پر جمع ہو گئے۔ خاص طور پر بلند و بالا عمارتوں میں رہنے والے افراد نے فوری طور پر باہر نکلنا مناسب سمجھا۔ بعض علاقوں میں لوگ اپنے موبائل فونز کے ذریعے اہل خانہ اور دوستوں سے رابطہ کرتے رہے تاکہ سب کی خیریت معلوم کی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جغرافیائی طور پر ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زلزلوں کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ شمالی علاقوں میں واقع پہاڑی سلسلے، خاص طور پر ہندوکش اور ہمالیہ کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کو زلزلے سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے پر زور دیتے رہتے ہیں۔

ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ زلزلے کی صورت میں گھبراہٹ سے بچیں اور فوری طور پر محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔ عمارتوں کے اندر ہونے کی صورت میں مضبوط میز یا دروازے کے فریم کے نیچے پناہ لینے کی ہدایت کی جاتی ہے، جبکہ لفٹ کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص باہر موجود ہو تو اسے عمارتوں، بجلی کے کھمبوں اور درختوں سے دور کھلے مقام پر چلے جانا چاہیے۔

حکام کے مطابق ابتدائی جائزے میں کسی بڑے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم بعض علاقوں میں معمولی نوعیت کے جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف کی فضا پیدا ہوئی۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے اور اگر کہیں کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو فوری کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی زلزلے کے حوالے سے شہریوں نے اپنے تجربات شیئر کیے۔ کئی صارفین نے لکھا کہ انہیں اچانک زمین ہلتی محسوس ہوئی جبکہ بعض نے بتایا کہ گھروں میں لٹکی اشیاء اور پنکھے ہلنے لگے تھے۔ سوشل میڈیا پر زلزلے سے متعلق معلومات تیزی سے پھیلنے کے بعد مختلف شہروں کے لوگ ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرتے رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عمارتوں کی تعمیر میں جدید حفاظتی اصولوں کو اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ اگر عمارتیں زلزلہ مزاحم ٹیکنالوجی کے مطابق بنائی جائیں تو جانی و مالی نقصان کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کو بھی چاہیے کہ تعمیراتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے زلزلے کی صورت میں نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

آخر میں ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کے امکان کو بھی مدنظر رکھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ساتھ ہی لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف مستند اداروں کی فراہم کردہ معلومات پر بھروسہ کریں۔ زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے، تاہم مناسب تیاری اور احتیاطی اقدامات کے ذریعے اس کے خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]