قومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری، اپوزیشن کا بائیکاٹ

قومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

قومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری، اپوزیشن کا بائیکاٹ، ترمیم کے حق میں 234 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں صرف چار ووٹ آئے

اسلام آباد (رئیس الاخبار):— قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔ ترمیم کے حق میں 234 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں صرف چار ووٹ آئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے تحریک پیش کی۔ وزیر قانون نے کہا کہ بار کونسل اور ایسوسی ایشنز سے مشاورت کے بعد چیف جسٹس کے عہدے سے متعلق ابہام دور کردیا گیا ہے۔ اب واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو جج سب سے سینئر ہوگا وہی کمیشن کی صدارت کرے گا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ترمیم کے بعد یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان کے منصب پر برقرار رہیں گے۔

بلاول بھٹو کا خطاب

قبل ازیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہم وہ آئینی ترمیم لا رہے ہیں جو جمہوری میثاق کے وعدوں کی تکمیل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “کسی کا باپ بھی 18ویں ترمیم کو ختم نہیں کرسکتا”۔

انہوں نے کہا کہقومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا مقصد اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے، محض اکثریت نہیں۔ 26ویں آئینی ترمیم بھی اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی اور 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ان کے حقوق دیے گئے تھے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ میثاقِ جمہوریت کے تحت کیے گئے وعدے ہم پورے کر رہے ہیں اور نامکمل وعدوں کی تکمیل یقینی بنا رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی ملک میں ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، قوم کو متحد ہو کر اس فتنہ کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ “ہم نے پہلے بھی قربانیاں دے کر دہشت گردوں کو شکست دی تھی اور آئندہ بھی دیں گے۔”

اپوزیشن کا احتجاج

بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران اپوزیشن بنچوں کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی اور “چور آیا، چور آیا” کے نعرے لگائے گئے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگہ کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خطاب کرتے ہوئے
پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے امن جرگے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی شرکت

بلاول بھٹو نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا کام صرف اپنے لیڈر کے لیے رونا نہیں بلکہ قانون سازی میں کردار ادا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 27قومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ازخود نوٹس (سوموٹو) کا اختیاری دائرہ ختم کر دیا گیا ہے۔ “یہ ہماری بڑی کامیابی ہے، جسے وقت ثابت کرے گا کہ یہ عدالتی توازن کے لیے اہم قدم تھا۔”

بلاول بھٹو نے کہا کہ نئی آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی ہوگی تاکہ وفاقی توازن مضبوط ہو۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]