پاکستان بحرین سرمایہ کاری: شہباز شریف نے بحرینی تاجروں کو سنہری مواقع کی دعوت دے دی

پاکستان بحرین سرمایہ کاری اجلاس میں شہباز شریف کی بزنس کمیونٹی سے ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان بحرین سرمایہ کاری کے شاندار امکانات — وزیراعظم شہباز شریف کا منامہ میں بڑا اعلان

وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے دو روزہ سرکاری دورۂ بحرین کے دوران بحرینی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور حکومتی نمائندوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی بھرپور دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان معاشی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک خطے کی بدلتی ہوئی معاشی ضروریات, ٹیکنالوجی کے ارتقا اور سرمایہ کاری کے نئے رجحانات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ’’طویل المدتی اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘‘ قائم کر سکتے ہیں۔

منامہ میں منعقدہ بڑے کاروباری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے جو نہ صرف قدرتی وسائل اور افرادی قوت سے مالا مال ہے بلکہ جدید تقاضوں کو تیزی سے اپنا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، معدنیات، توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں بحرینی سرمایہ کاری کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں، اور اگر بحرین کی مالی مہارت اور پاکستان کے وسائل کو یکجا کر دیا جائے تو دونوں ممالک بے مثال ترقی کرسکتے ہیں۔

تقریب میں بحرین کے نائب وزیراعظم، وزیرِ خارجہ، وزیرِ خزانہ و قومی معیشت، وزیرِ صنعت و تجارت اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے، جبکہ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور اہم حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔ یہ اجلاس نہ صرف سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو کا پلیٹ فارم تھا بلکہ مستقبل کی معاشی سمت طے کرنے کا بھی ایک اہم موقع ثابت ہوا۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دستیاب افرادی قوت، نوجوانوں کی آبادی، بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی مارکیٹ اور خطے میں اپنی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی پرکشش ملک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں بے تحاشا صلاحیت موجود ہے، جہاں بحرینی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں بلکہ علاقائی ڈیجیٹل تبدیلی کا بھی حصہ بنا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک، ڈیجیٹل فنانس، ای کامرس، بائیو ٹیکنالوجی اور جدید انجینئرنگ کے شعبوں میں بحرین کے ساتھ جامع تعاون چاہتا ہے تاکہ دونوں ممالک علم، مہارت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔

وزیرِاعظم نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ پاکستان اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے پر پیش رفت نہایت مثبت ہے، اور بہت جلد اس پر دستخط ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد دونوں خطوں کے درمیان تجارت میں نئی راہیں کھلیں گی، سرمایہ کاری بڑھے گی اور کاروباری ماحول میں مربوطی آئے گی۔

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا:
“میں یہاں صرف پاکستان کے وزیرِاعظم کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے موجود ہوں، ایک ایسے ملک کا جو بحرینی کاروباری شخصیات کے ساتھ مضبوط، دیرپا اور بامقصد شراکت داری کا خواہاں ہے۔ ہم بحرینی سرمایہ کاروں کو اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ پاکستان ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے، چاہے بات سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی ہو، کاروباری سہولتوں کی، یا مشترکہ منصوبوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کی۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، معاشی اور سماجی رشتوں کو نئی جہت دے گا۔ شہباز شریف نے بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، ولی عہد و وزیراعظم سلمان بن حمد الخلیفہ اور بحرین کی قیادت کا پرتپاک استقبال اور شاندار میزبانی پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بحرین دہائیوں پر مشتمل تعلقات کے حامل ہیں جن کی بنیاد ثقافتی ہم آہنگی، مذہبی وابستگی، باہمی احترام اور اعتماد پر رکھی گئی ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ ان مضبوط تعلقات کو عملی معاشی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔

وزیرِاعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان نوجوان نسل کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ سمجھتا ہے، اور نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی، ہنر مند تربیت، فنی مہارت اور جدید روزگار کے مواقع فراہم کرکے ملک کو ترقی کے نئے دور میں داخل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بحرین میں مقیم 1 لاکھ سے زائد پاکستانی نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ بحرین کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ گزشتہ برس پاکستانی کمیونٹی نے 484 ملین ڈالر کی ریکارڈ رقوم وطن بھیجیں، جو پاکستانیوں کے دونوں ممالک سے مضبوط تعلقات اور اعتماد کی دلیل ہیں۔

وزیرِاعظم نے کہا:
“پاکستان کے دروازے ہمیشہ بحرینی بھائیوں کے لیے کھلے رہیں گے۔ ہماری معیشت، ہماری مارکیٹ اور ہماری قیادت ہر اس شخص کا خیرمقدم کرتی ہے جو پاکستان کے ساتھ ترقی کا سفر طے کرنا چاہتا ہے۔ ہم بحرین کی وژنری قیادت کے اقدامات سے سیکھ رہے ہیں، جنہوں نے بحرین کو خطے میں مالیاتی جدت، انسانی ترقی اور معاشی استحکام کی مثال بنا دیا ہے۔”

اجلاس میں بحرین کے وزیرِ خزانہ سلمان بن خلیفہ الخلیفہ نے اپنے خطاب میں پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں نے نسل در نسل بحرین کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے، اور بحرین کو اپنا دوسرا گھر سمجھ کر محنت اور خلوص سے کام کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ نصف صدی سے پاکستان کے مالیاتی ادارے بحرین کے مالیاتی ڈھانچے کا اہم ستون رہے ہیں۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بحرین اس وقت اقتصادی اور تکنیکی تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، اور خطہ جدت، پائیداری، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور تکنیکی ترقی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ بحرین کے اعلیٰ معیار کے سب میرین کیبلز، جدید ڈیٹا سینٹرز، تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل صلاحیت اور مضبوط آئی ٹی ایکو سسٹم پاکستان کے ٹیکنالوجی ماہرین اور کمپنیوں کے لیے بے شمار مواقع پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بحرین اپنی ’’وزن 2030‘‘ کی پالیسی کو آگے بڑھا رہا ہے اور ’’وزن 2050‘‘ کی بنیاد رکھ رہا ہے، اور اس سفر میں پاکستان ایک قدرتی اور قابلِ اعتماد معاشی شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک مستقبل میں مشترکہ مالیاتی نظام، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، تکنیکی سلوشنز اور صنعتی شعبے میں تعاون سے ترقی کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ بحرین اقتصادی اور تجارتی تعاون مرکزی نکتہ
وزیراعظم شہباز شریف کی شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ کے ساتھ منامہ میں اہم ملاقات۔
سرکاری دورے پر وزیراعظم شہباز شریف بحرین روانہ
وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر بحرین روانہ

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]