باجوڑ پولیو ٹیم پر حملہ: دہشت گردی کی نئی لہر، اہلکار سمیت 2 شہید، وزیراعظم کا سخت ردعمل

باجوڑ میں انسداد پولیو ٹیم کے تحفظ پر مامور پولیس اہلکار، جس پر فائرنگ کی گئی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

باجوڑ پولیو ٹیم پر حملہ: پولیو مہم کے محافظوں پر بزدلانہ وار، شرپسندوں کی تلاش جاری

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی قومی کوششوں کو ایک بار پھر دہشت گردی کے بزدلانہ وار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی کے علاقے تنگی میں نامعلوم شرپسندوں نے انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے، اور اس وائرس کے خاتمے کے لیے ٹیمیں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کام کر رہی ہیں۔

پاکستان میں پولیو وائرس کیسز میں اضافہ – خیبر پختونخوا کے 2 بچے متاثر

واقعے کی تفصیلات: تحفظ کے باوجود نقصان

پولیس حکام نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انسداد پولیو ٹیم تنگی کے علاقے میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے معمول کی مہم میں مصروف تھی۔ پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے تعینات پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی پر موجود تھے۔ اسی دوران نامعلوم افراد نے اچانک فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں ٹیم کو سکیورٹی فراہم کرنے والا ایک پولیس اہلکار اور ایک راہگیر، جو بظاہر قریب سے گزر رہا تھا، جاں بحق ہو گیا۔

پولیس حکام کے مطابق، فائرنگ کے بعد شرپسند موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم علاقے میں فوری طور پر سکیورٹی فورسز کو متحرک کر دیا گیا اور شرپسندوں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر باجوڑ پولیو ٹیم پر حملہ کے بعد آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ تخریب کاروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا افسوس اور سخت ہدایات

وزیراعظم شہباز شریف نے اس افسوس ناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔

وزیراعظم نے اس عمل کو ‘انتہائی افسوس ناک’ قرار دیا اور کہا کہ قوم کے لیے انسداد پولیو کی اہم خدمت سر انجام دینے والوں پر حملہ کرنے والے بزدل ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تخریب کاروں کی جلد از جلد شناخت کی جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ وزیراعظم نے واضح عزم کا اعادہ کیا کہ باجوڑ پولیو ٹیم پر حملہ کے باوجود ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے تک انسداد پولیو مہم پوری تحریک اور قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔

پولیو مہم کا عزم: خدمات اور قربانیاں

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کے کارکنان اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکار شدید خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دہشت گرد عناصر اور غلط معلومات پر یقین رکھنے والے گروہ اکثر ان ٹیموں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس حملے میں جاں بحق ہونے والا پولیس اہلکار اور راہگیر اس قومی مہم کے دوران دی جانے والی قربانیوں کا ایک اور دردناک باب ہیں۔ باجوڑ پولیو ٹیم پر حملہ جیسے واقعات نہ صرف مہم کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ ان ہزاروں رضاکاروں کے حوصلے کو بھی چیلنج کرتے ہیں جو ہر گھر جا کر بچوں کو مہلک وائرس سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

عالمی ردعمل اور صحت کے خطرات

پاکستان میں پولیو ٹیموں پر حملے بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری ممالک ہیں جہاں پولیو مقامی طور پر پایا جاتا ہے۔ باجوڑ پولیو ٹیم پر حملہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیو وائرس کے ساتھ ساتھ، سکیورٹی کا چیلنج بھی اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسیف (UNICEF) جیسے ادارے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور پاکستانی حکومت کو سکیورٹی اور مہم کی حمایت جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

لاہور میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، خاتون ورکر کا سر پھٹ گیا

پولیو کے خاتمے کے لیے حکام اب دوہری حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں: ایک طرف انسداد پولیو ٹیموں کی سکیورٹی کو مزید سخت کرنا، خصوصاً باجوڑ اور دیگر حساس علاقوں میں جہاں باجوڑ پولیو ٹیم پر حملہ جیسے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف، عوام میں پولیو ویکسین اور اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پھیلانا تاکہ غلط معلومات کو روکا جا سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]