یکم جنوری سے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ مکمل طور پر بند
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ٹریفک نظام کو جدید، منظم اور محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھایا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری سے بغیر ایم ٹیگ (E-Tag) گاڑیوں کا شہر میں داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانا ہے بلکہ سیکیورٹی کو مزید مضبوط بناتے ہوئے شہریوں کو ایک منظم اور محفوظ سفری ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کے مطابق یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یکم جنوری کے بعد بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف باقاعدہ کارروائیاں کی جائیں گی اور کسی کو بھی اس قانون سے استثنا حاصل نہیں ہوگا۔
ایم ٹیگ دراصل ایک الیکٹرانک شناختی ٹیگ ہے جو گاڑی پر نصب کیا جاتا ہے۔ اس ٹیگ کی مدد سے گاڑی کی شناخت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں ایم ٹیگ نظام متعارف کرانے کا بنیادی مقصد شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنا، غیر قانونی یا مشکوک گاڑیوں کی نشاندہی کرنا اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
ڈپٹی کمشنر عرفان میمن کے مطابق شہریوں کی سہولت کے لیے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں ایم ٹیگ کے لیے 16 رجسٹریشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، جہاں شہری آسانی سے اپنی گاڑیوں کا اندراج کرا سکتے ہیں۔ ان مراکز پر تربیت یافتہ عملہ موجود ہے جو شہریوں کی رہنمائی کرتا ہے اور ایم ٹیگ کے اجرا کے عمل کو تیز اور شفاف بناتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 14 نومبر سے اب تک تقریباً ایک لاکھ گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شہری اس نظام میں دلچسپی لے رہے ہیں اور حکومتی اقدامات کا مثبت جواب دے رہے ہیں۔ انتظامیہ کو امید ہے کہ یکم جنوری تک یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی اور زیادہ تر گاڑیاں ایم ٹیگ کے دائرہ کار میں آ جائیں گی۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کی نشاندہی کے لیے جدید ٹیگ ریڈرز استعمال کیے جائیں گے۔ یہ ٹیگ ریڈرز شہر کے مختلف انٹری پوائنٹس، اہم شاہراہوں اور ناکہ جات پر نصب کیے جا چکے ہیں۔ جیسے ہی کوئی گاڑی بغیر ایم ٹیگ کے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرے گی، سسٹم خودکار طور پر اس کی نشاندہی کر لے گا اور متعلقہ اہلکار فوری کارروائی کریں گے۔
عرفان میمن نے مزید بتایا کہ یکم جنوری سے تمام ٹیگ ریڈرز مکمل طور پر فعال کر دیے جائیں گے اور ان کی مدد سے شہر میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کی نگرانی کی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کا داخلہ روکا جا سکے گا بلکہ چوری شدہ یا مطلوبہ گاڑیوں کی بروقت نشاندہی بھی ممکن ہو سکے گی۔
ماہرین کے مطابق ایم ٹیگ نظام جدید شہروں کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں اس قسم کے الیکٹرانک ٹریفک سسٹمز پہلے ہی نافذ ہیں، جن کے ذریعے ٹریفک مینجمنٹ، سیکیورٹی اور شہری سہولتوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اسلام آباد میں اس نظام کے نفاذ سے دارالحکومت کو ایک سمارٹ سٹی بنانے کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔
شہریوں کی بڑی تعداد نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم ٹیگ نظام سے نہ صرف ٹریفک جام میں کمی آئے گی بلکہ شہر میں جرائم پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ تاہم بعض شہریوں نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ ایم ٹیگ کے حصول کے عمل کو مزید آسان اور تیز بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس نظام کا حصہ بن سکیں۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یکم جنوری سے پہلے اپنی گاڑیوں کا ایم ٹیگ لازمی حاصل کر لیں تاکہ کسی قسم کی دشواری یا قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوام کی سہولت اور شہر کی بہتری کے لیے اٹھایا گیا ہے، اس لیے شہریوں کا تعاون نہایت ضروری ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ایک اہم، بروقت اور مستقبل بَین فیصلہ ہے، جو شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہو گیا تو نہ صرف ٹریفک اور سیکیورٹی کے مسائل کم ہوں گے بلکہ اسلام آباد ایک منظم، محفوظ اور مثالی دارالحکومت کے طور پر مزید ترقی کرے گا۔

