بی وائے ڈی الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، ٹیسلا دوسرے نمبر پر برقرار
الیکٹرک گاڑیوں کی جنگ میں نیا موڑ سال 2025 عالمی آٹو موبائل صنعت کے لیے ایک تاریخی سال ثابت ہوا ہے۔ طویل عرصے تک برقی گاڑیوں کی دنیا پر راج کرنے والی امریکی کمپنی ٹیسلا کو چین کی ابھرتی ہوئی کمپنی بی وائے ڈی (BYD) نے فروخت کے میدان میں شکست دے دی ہے۔ بی وائے ڈی الیکٹرک گاڑیاں اب نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا میں صارفین کی اولین پسند بن رہی ہیں، جس نے ایلون مسک کی سلطنت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
فروخت کے حیران کن اعداد و شمار
سال 2025 کے دوران جاری ہونے والی رپورٹس کے مطابق، بی وائے ڈی نے مجموعی طور پر 22 لاکھ 50 ہزار سے زائد گاڑیاں فروخت کیں، جبکہ اس کے مقابلے میں ٹیسلا صرف 16 لاکھ گاڑیاں ہی فروخت کر سکی۔ یہ فرق واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ کا رخ اب ایشیائی برانڈز کی طرف مڑ رہا ہے۔ بی وائے ڈی الیکٹرک گاڑیاں اپنی سستی قیمت اور جدید خصوصیات کی وجہ سے ہر طبقے کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
ٹیسلا کی فروخت میں کمی کی وجوہات
ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کو گزشتہ سال کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔ ماہرین کے مطابق:
- سیاسی سرگرمیاں: ایلون مسک کی بڑھتی ہوئی سیاسی وابستگیوں اور بیانات کی وجہ سے برانڈ امیج کو نقصان پہنچا۔
- سخت مقابلہ: چینی حریف کمپنیوں، خاص طور پر بی وائے ڈی نے قیمتوں کی جنگ شروع کر دی جس کا ٹیسلا مقابلہ نہ کر سکی۔
- پیداواری مسائل: سپلائی چین کے مسائل نے بھی امریکی کمپنی کی فروخت کو متاثر کیا۔
بی وائے ڈی کی کامیابی کا راز
بی وائے ڈی کی اس عظیم کامیابی کے پیچھے محض اتفاق نہیں بلکہ برسوں کی تحقیق اور محنت ہے۔ بی وائے ڈی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی یہ کمپنی خود اپنی بیٹری ٹیکنالوجی بناتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی پیداواری لاگت دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ کمپنی نہ صرف چھوٹی کاریں بلکہ الیکٹرک بسیں، ٹرک اور جدید توانائی کے حل بھی فراہم کر رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں بی وائے ڈی کا بڑھتا ہوا اثر
چین کی اس کمپنی نے اپنی کم قیمت اور مضبوط پیداواری صلاحیت کے ذریعے یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کی مارکیٹوں میں تیزی سے جگہ بنائی ہے۔ لوگ اب مہنگی لگژری گاڑیوں کے بجائے پائیدار اور جیب پر بھاری نہ پڑنے والی بی وائے ڈی الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں کمپنی کا شیئر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ٹیکنالوجی اور بیٹری سسٹم میں جدت
بی وائے ڈی کی "بلیڈ بیٹری” ٹیکنالوجی کو صنعت میں سب سے محفوظ اور کارآمد مانا جاتا ہے۔ جب صارفین بی وائے ڈی الیکٹرک گاڑیاں خریدتے ہیں، تو انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ جدید ترین اور محفوظ ترین ٹیکنالوجی کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی نے کمپنی کو ٹیسلا جیسی بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں ایک واضح برتری دلائی ہے۔
ایف بی آر ٹیکس وصولی کا تاریخی سنگ میل: دسمبر میں 1427 ارب روپے کے ساتھ معاشی اہداف کی جانب بڑی پیش رفت
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹیسلا نے اپنی حکمت عملی تبدیل نہ کی تو 2026 تک یہ فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔ بی وائے ڈی الیکٹرک گاڑیاں جس رفتار سے ترقی کر رہی ہیں، وہ وقت دور نہیں جب یہ کمپنی ہر براعظم کی سڑکوں پر راج کرے گی۔ الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل اب یقینی طور پر چینی کمپنیوں کے ہاتھ میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔