غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن: ترکیے سے افغان شہریوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری
ترکیے میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت ترکیے سے افغان شہریوں کی ملک بدری کے عمل میں حالیہ دنوں میں مزید تیزی دیکھی گئی ہے۔ افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ترک حکام نے رہائشی دستاویزات اور قانونی ویزا نہ رکھنے پر مزید 18 افغان باشندوں کو حراست میں لے کر ڈی پورٹ کر دیا ہے۔ ان افراد کو گرفتاری کے بعد فوری طور پر ڈی پورٹیشن سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں کابل روانہ کر دیا گیا۔
گزشتہ سال کے اعداد و شمار اور کریک ڈاؤن
ترکیے کی وزارت داخلہ اور امیگریشن حکام کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق، گزشتہ سال غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشنز کیے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران 42 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ترکیے سے افغان شہریوں کی ملک بدری کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ترک حکومت کا موقف ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے کسی بھی غیر قانونی مقیم شخص کو برداشت نہیں کریں گے۔
عالمی سطح پر ملک بدری کا رجحان
صرف ترکیہ ہی نہیں، بلکہ اس وقت پاکستان، ایران، امریکہ، برطانیہ اور کئی یورپی ممالک سے بھی غیر قانونی افغان شہریوں کی ملک بدری کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ ان ممالک کا دعویٰ ہے کہ قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم افراد معیشت اور سکیورٹی پر بوجھ بن رہے ہیں۔ پاکستان نے بھی گزشتہ مہینوں میں لاکھوں افغان باشندوں کو واپس بھیجا ہے، اور اب ترکیے سے افغان شہریوں کی ملک بدری کی خبریں بھی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
ویزہ پابندیاں اور قانونی مشکلات
افغان شہریوں کے لیے عالمی سطح پر مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوا جب امریکہ سمیت کئی بڑے ممالک نے افغان شہریوں پر ویزے کی سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ قانونی راستے بند ہونے کی وجہ سے بہت سے افغان باشندے انسانی اسمگلروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر ترکیے اور یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، راستے میں گرفتاری اور پھر ترکیے سے افغان شہریوں کی ملک بدری ان کے تمام خوابوں کو چکنا چور کر دیتی ہے۔
انسانی حقوق اور تارکینِ وطن کی صورتحال
ترکیے کے مختلف شہروں، خاص طور پر استنبول اور انقرہ میں سرچ آپریشنز کے دوران ان افغان شہریوں کو پکڑا جاتا ہے جن کے پاس ‘اقامہ’ یا عارضی رہائشی اجازت نامہ نہیں ہوتا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ترکیے سے افغان شہریوں کی ملک بدری پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں، لیکن ترک حکام کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنے ملکی قوانین کی پاسداری کر رہے ہیں۔
مستقبل کی پالیسی اور افغان مہاجرین
افغانستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ لیکن منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک افغانستان میں روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے، ترکیے سے افغان شہریوں کی ملک بدری کے باوجود لوگ جان خطرے میں ڈال کر ہجرت کرتے رہیں گے۔
غیرقانونی مقیم افغانیوں کی اطلاع پر نقد انعام، پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ
خلاصہ یہ ہے کہ ترکیے سے افغان شہریوں کی ملک بدری کا یہ حالیہ واقعہ اس وسیع تر مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد ترکیے میں غیر قانونی امیگریشن کا خاتمہ کرنا ہے۔ حالیہ 18 افراد کی ڈی پورٹیشن کے بعد اب تک ہزاروں افراد کو واپس ان کے وطن بھیجا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ رکنے کے آثار نظر نہیں آتے۔ ترکیے سے افغان شہریوں کی ملک بدری کے اس عمل نے مہاجرین کے بحران کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر کر دیا ہے۔
One Response