سونے کی قیمت میں بڑی کمی، عالمی منڈی کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں تین روزہ وقفے کے بعد فی اونس سونا 37 ڈالر سستا ہو کر 4 ہزار 601 ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں اس کمی کے اثرات مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی واضح طور پر دیکھنے میں آئے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باعث جمعرات کے روز ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 3 ہزار 700 روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 82 ہزار 462 روپے کی سطح پر آ گیا۔ اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 172 روپے کی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 13 ہزار 633 روپے مقرر ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، امریکی بانڈز کی پیداوار میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان میں عارضی کمی وہ اہم عوامل ہیں، جن کے باعث سونے کی عالمی قیمت دباؤ کا شکار ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال میں وقتی کمی بھی سونے کی قیمتوں میں کمی کا سبب بنی ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 150 روپے کی کمی کے بعد 9 ہزار 425 روپے پر آ گئی، جبکہ فی دس گرام چاندی 129 روپے سستی ہو کر 8 ہزار 080 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
صرافہ مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باعث خریداروں کی دلچسپی میں جزوی اضافہ متوقع ہے، تاہم مجموعی طور پر مارکیٹ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ تاجروں کے مطابق اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں مزید کمی یا استحکام دیکھنے میں آیا تو مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی اشاریوں، مہنگائی کے اعداد و شمار اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں پر سونے کی قیمتوں کا انحصار رہے گا، جبکہ سرمایہ کاروں کو محتاط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔


One Response